درودِ ابراہیمی میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تخصیصی ذکر: حکمتیں اور وجوہات
سوال: درودِ ابراہیمی (نماز والے درود) میں اور پیغمبروں کا ذکر نہیں ہے، صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی کا ذکر کیوں ہے؟
علمائے کرام نے اس کے چند جوابات ذکر فرمائے ہیں:
- پہلا جواب: حضرت ابراہیم علیہ السلام اولو العزم (بڑے درجہ کے) پیغمبروں میں سے ہیں۔
- دوسرا جواب: حضرت ابراہیم علیہ السلام کعبۃ اللہ کے بانی ہیں۔
- تیسرا جواب: حضرت ابراہیم علیہ السلام خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جدِ اعلیٰ ہیں۔
- چوتھا جواب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اصولِ دین کی پیروی کرنے اور ان کی سنتوں کی پابندی کرنے کا حکم ہوا ہے۔
- پانچواں جواب: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی تھی: وَاجْعَلْ لِّي لِسَانَ صِدْقٍ فِي الآخِرِينَ (الہی! مجھے میرے بعد کے آنے والے نیکی سے یاد کریں [الشعراء: 84])۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی، اس لیے ہمیں حکم ہے کہ ہم درود میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یاد کریں۔
- چھٹا جواب: جب حضرت ابراہیم علیہ السلام خانہ کعبہ کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو دعا کی: "الہی! جو شخص نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے بیت اللہ شریف کی طرف منہ کر کے دو رکعت ادا کرے، اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما"۔ اس پر حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ علیہا السلام نے کہا "آمین"۔ اس لیے امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد ہوا کہ تم بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آلِ ابراہیم کا پانچ وقت نمازوں میں نام لو، تاکہ اس احسان کا بدلہ ہو جو انہوں نے تمہارے ساتھ خانہ کعبہ کی تعمیر کے بعد کیا۔
حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے زاد السعید (ص: 11) پر چند مزید نکات تحریر فرمائے ہیں:
- ساتواں جواب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت کا طرز بہت ملتا ہے۔
- آٹھواں جواب: شبِ معراج میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا تھا کہ اپنی امت کو میرا سلام کہنا۔
- نواں جواب: صاحبِ مدارج النبوۃ (حاشیہ کنز الآثار ص: 114) نے مزید یہ لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس امت کے حال پر نہایت شفقت فرمائی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبعوث ہونے کی دعا فرمائی تھی: رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْهُمْ... (البقرۃ: 129)۔
لہٰذا انہی وجوہات کی وجہ سے درودِ ابراہیمی (نماز والے درود) میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر آیا ہے۔