بعض اوقات استاد... یا کسی بڑی شخصیت کا فقط ایک جملہ... طالب علم کی زندگی ہی بدل ڈالتا ہے۔ اور اُمت کو اس سے وہ فائدہ پہنچتا ہے جو اس جملہ کہنے والے کے تصور میں بھی نہیں ہوتا.... صرف ایک بات فرش سے عرش تک پہنچا دیتی ہے۔
چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:
1) امام محمد بن احمد ذہبی رحمہ اللہ علیہ جو اسماء الرجال کے امام کامل ہیں۔ اپنے شیخ امام برزالی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے فرماتے ہیں:
"یہ وہی ہیں جنہوں نے مجھے طلب حدیث کا شوق دلایا، اُنہوں نے میری لکھائی دیکھ کر فرمایا: ’تمھاری لکھائی محدثین جیسی ہے۔‘ اُن کا یہ قول میرے دل میں گھر کر گیا اور میں نے اُن سے سماع کیا اور اُن کے ذریعہ کئی علوم میں مہارت حاصل کی۔" (الدر الکامنہ: 238/3)
امام برزالی رحمۃ اللہ علیہ نے تو ایک جملہ ارشاد فرمایا لیکن اس کے بدلے اُمت کو "تاریخ اسلام"، "سیر اعلام النبلاء"، "تذکرۃ الحفاظ"، "میزان الاعتدال"، "تذہیب تہذیب الکمال" اور "الکاشف" جیسی بلند پایہ کتب امت کو امام ذہبی کے قلم سے نصیب ہوئیں۔
2) امام بخاری رحمہ اللہ علیہ کی عظیم کتاب "الجامع المسند الصحيح المختصر من أمور رسول الله صلى الله عليه وسلم وسننه وأيامه" جسے ہم صحیح بخاری کے نام سے جانتے ہیں، اس کتاب کی وجہ بھی امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے استاذ محترم اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ علیہ کا ایک جملہ بنا۔ چنانچہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اپنی اس کتاب کے لکھنے کا ایک سبب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"میں امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ کی بارگاہ میں حاضر تھا کہ آپ نے فرمایا: ’کاش تم میں سے کوئی ایک ایسی کتاب لکھے جس میں صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث ہوں۔‘ امام بخاری فرماتے ہیں کہ: یہ بات میرے دل میں اُتر گئی لہذا میں اس کتاب کو جمع کرنے میں لگ گیا۔" (ملخصاً من التوضیح لابن ملقن: 28/2)
3) امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمۃ اللہ علیہ جن کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں، ابتداءً صرف کاروبار میں ہی مشغولیت تھی، آپ کو امام اعظم بنانے والی شخصیت بھی آپ کے استاد محترم امام عامر بن شراحیل الشعمی رحمہ اللہ علیہ کا ایک جملہ ہی تھا۔
عقود الجمان میں ہے:
ابو محمد عبد اللہ حارثی رحمۃ اللہ علیہ اپنی سند سے امام ابو حنیفہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: "ایک دن میں امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس سے گزرا تو وہ بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے مجھے بلایا اور فرمایا: ’کہاں آنا جانا رکھتے ہو؟‘
میں نے جواب دیتے ہوئے کہا: ’فلاں کے پاس جاتا ہوں۔‘
امام شعبی نے فرمایا: ’میری مراد بازار نہیں، بلکہ علماء کے پاس جانا تھا۔‘
اس پر میں نے کہا: ’میں اُن کے پاس کم ہی جاتا ہوں۔‘
اُنہوں نے فرمایا: ’ایسا نہ کرو بلکہ تمہیں تو علم و علماء کی مجالس کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ بے شک میں نے تم میں بیدار مغزی و ذہانت دیکھی ہے۔‘
امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اُن کی اس بات نے مجھ پر بہت اثر کیا اور میں نے کاروبار ترک کیا اور علم حاصل کرنے لگا۔ اللہ پاک نے ان کی بات کی وجہ سے مجھے بہت نفع عطا فرمایا۔" (عقود الجمان: 64)
4) امام حسن بن زیاد رحمہ اللہ علیہ فقہ حنفی کے عظیم پیشوا ہیں، آپ کے استادوں میں امام زفر اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ علیہا جیسی عظیم ہستیاں شامل ہیں۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"میں علم حاصل کرنے کے لیے پہلے امام زفر رحمۃ اللہ علیہ کے پاس جایا کرتا تھا، جو مسئلہ مجھ پر دشوار ہوتا میں اُن سے اس مسئلے کے متعلق سوال کرتا تو وہ میرے لیے اس مسئلے کی وضاحت کرتے لیکن میں سمجھ نہیں پاتا تھا۔ بالآخر جب میں نے انہیں تھکا دیا تو اُنہوں نے فرمایا: ’تیری خرابی ہو، نہ تم میں صلاحیت ہے اور نہ ہی تمہیں کوئی نفع ہوتا ہے، مجھے نہیں لگتا ہے تم کبھی کامیاب ہو پاؤ گے۔‘
حسن بن زیاد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر میں ان کے یہاں سے شکستہ دل و غمگین ہو کر نکل کر ابو یوسف کے پاس آتا تو وہ میرے لیے مسئلہ کی تفصیل کرتے، جب میں سمجھ نہیں پاتا تو مجھ سے کہتے ’ٹھہر جاؤ‘، پھر مجھ سے پوچھتے ’کیا اس وقت بھی تم ویسے ہی ہو جیسے تم نے شروعات کی تھی؟‘
میں کہتا ’نہیں۔ کچھ چیزیں سمجھ آئی ہیں اگرچہ اپنی چاہت کے مطابق مکمل سمجھ نہیں پایا ہوں‘، تو آپ رحمہ اللہ تعالی علیہ فرماتے: ’تم اپنی مراد کو پہنچ ہی جاؤ گے۔ جو بھی چیز کم ہوتی ہے آخر کار اپنی غایت کو پہنچ ہی جاتی ہے، تم صبر کرو مجھے لگتا ہے کہ...‘"
حسن بن زیاد فرماتے ہیں: "مجھے ان کے صبر سے حیرت ہوتی۔" (حسن التقاضی فی سیرۃ الامام ابی یوسف القاضی، ص: 59)
استاد کے کہے پر عمل کیا تو بالآخر ایک وقت آیا آپ رحمہ اللہ تعالی علیہ امامت کے درجہ پر پہنچ ہی گئے۔
نتیجہ: لہذا آپ اپنے ماتحتوں کی حوصلہ افزائی کریں حوصلہ شکنی نہ کریں۔