محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عملی تقاضے اور ہماری غفلت

مومن کا دل محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سرشار ہونا .... لازمی اور فطری بات ہے اور یہ محبت علی وجہ الا تم تمام مادی نسبتوں اور چیزوں سے بڑھ کر ہونا کمال ایمان کی نشانی اور عند اللہ مطلوب ہے:

 لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِن وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ.“ (صحیح بخاری رقم الحدیث : 15)

 تم میں سے کوئی کمال ایمان کو اس وقت تک نہیں پہنچ سکتا جب تک میں اُس کے نزدیک اس کے والدین، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں۔“ 

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ ! میری ذات کے بعد مجھے آپ سے سب سے زیادہ محبت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا ایمان کامل نہیں، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : آپ مجھے اپنی ذات سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم تمہارا ایمان اب مکمل ہوا ۔

ساری کائنات پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات نصف النہار کے سورج کی طرح عیاں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت دل کا اطمینان ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت شرط ایمان ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل آوری وصف مسلمان ہے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے کامل محبت اور سچے عشق کے ساتھ ساتھ بھر پور عمل بھی تھا۔

 صحابہ کرام رضی اللہ تم نے نہ صرف حکم بلکہ آپ صلی الہ علیہ سلم کی طرف منسوب ہر عمل کو بھی اپنی عملی زندگی کا حصہ بنایا۔ انفرادی ہو یا اجتماعی زندگی شخصی معاملات ہوں یا ملکی یا بین الاقوامی معاہدات، حقوق اللہ ہوں یا حقوق العباد، مصلے پر ہو یا بستر حرم پر ، ہر موقع پر حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور اسوہ کو اپنے دامنِ عمل سے پیوستہ رکھا۔

 بعد والوں کے لیے وہ مقدس جماعت منارہ منزل بن گئی اتباع سنت کے لیے انہیں نہ بادشاہ کی پرواہ ہے، نہ باپ کی ، آقاصلی الہ علیہ وسلم کے حکم کو بجالانے میں نہ دریا حائل ہوتا تھا، نہ جنگل و بیاباں اور صحراء نہ ، گلستاں ، اسی بنا پر باطل ان کے رعب سے لرز اٹھتا۔

قدرتی دستور اور عشق رسول صلی اللہ علیہ سلم کا پہلا مطالبہ عمل ہی ہے۔ صرف زبانی دعوائے محبت یا تصدیق قلبی و اقر اریسانی کافی ہوتا تو عہد نبوت سے آج تک کوئی منافق اور کافر نہ ہوتا، جب تک کہ کردار عملی کا اظہار نہ ہو، مومن اور منافق میں امتیاز ، موحد اور مشرک میں امتیاز کیسے ہوتا ؟

عمل پیمانہ ہے مومن صادق اور منافق کے درمیان، عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کےقرآن پاک میں بے شمار مقامات پر اللہ رب العزت نے ایمان باللہ کے ساتھ عمل صالح کا ذکر بکسرت کیا ہے

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا . “ (الكهف: 107)

ترجمہ: جو لوگ ایمان لائے ہیں اور کیے ہیں بھلے کام ، ان کے واسطے ہے ٹھنڈی چھاؤں کے باغ مہمانداری ایک اور جگہ پر فرمایا : ساری انسانیت خسران میں ہے سوائے ایمان اور عمل صالح کے

إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ، إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ .“ (العصر : 3،2) 

ترجمہ: سراسر انسان نقصان میں ہے ، مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک کام کیے۔

ایک مقام پر یوں ذکر کیا: وَمَنْ يَعْمَلُ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُونَ فِيهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ.“ (المؤمن: 40)

ترجمہ: ” جو نیک کام کرتا ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ مومن ہو ایسے لوگ جنت میں جاویں گے (اور) وہاں بے حساب ان کو رزق دیا ملے گا۔ (تھانوی)

حضرت انس رضی اللہ عنہ کو کدو پسند نہ تھا آقاصلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کر کے کھاتا دیکھ کر آپ رضی اللہ عنہ کو بھی شوق ہو گیا۔

 حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا محض اتباع سنت کی غرض سے اس مقام پر بیٹھ گئے جہاں آقا صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر کے دوران قضائے حاجت کے لیے گئے تھے، کچھ دیر آپ بھی اسی مقام پر بیٹھ گئے ۔ ( حياة الصحابة ) 

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: میں تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا اگر میں آقا صلی الہ علیہ وسلم کو بوسہ کرتے ہوئے نہ دیکھتا۔ (الشفاء)

قاضی عیاض نے الشفاء میں فرمایا: واقعتاً کسی سے محبت ہو جاتی ہے تو محبوب کی محبوبات و مرغوبات ، حتی کہ مباحات سے بھی محبت ہو جاتی ہے۔ ایک سچے عاشق رسول کا جذبہ یہ ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہیے کہ وہ کردار کا غازی بنے ، نہ کہ محض گفتار کا۔ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ادا اور ہر حکم کو اپنی زندگی کے ہر شعبہ میں عملی طور پر بجالائے۔

ایک مقام پر اپنی ذات سے محبت کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اگر تم مجھ سے محبت کرتے ہو تو میرے حبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اتباع کرو۔

 قُلْ إِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ. (آل عمران: (31) ترجمہ: تو کہ اگر تم محبت رکھتے ہو اللہ کی تو میری راہ چلو، تا کہ محبت کرے تم سے اللہ اور بخشے گناہ تمہارے۔اس آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے مومنین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم کی اطاعت پر دو انعامات سے نوازنے کا وعدہ کیا ہے: ایک اپنی محبت اور دوسرا گناہوں کی مغفرت۔

حدیث پاک میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِهِ. “ (مشكوة) ترجمہ: ” تمہارا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوتا جب تک تمہاری خواہشات اور جذبات اس دین کے تابع نہ ہو جائیں جس کو میں لے کر آیا ہوں۔اس کا عملی نمونہ ہم کو دیکھنا ہے تو حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگی دیکھیں کہ انہوں نے کیسے لازوال نمونے بعد والوں کے لیے چھوڑے ہیں۔

آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: الْمُتَمَسِّكُ بِسُنَّتِي عِنْدَ فَسَادِ أُمَّتِي فَلَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ. (حجم اوسط للطبرانی) لوگوں کے فساد کے وقت جو میری سنت کو اپنائے گا اللہ اسے شہید کا ثواب عطا فرمائے گا۔مقام افسوس ہے کہ آج ہماری دین کے اعتبار سے حس مفقود ہو گئی۔ سنن، مستحبات، مباحات تو دور کی بات ہے، فرائض کا بھی پتہ نہیں۔ صلہ رحمی، ایثار، ہمدردی، تالیف قلب تو دور کی بات، حقوق واجبہ ولازمہ تک بھی ادا نہیں ہوتے ... منکرات پر نہ دل ناراض ہوتا ہے، نہ بے دینی کے ماحول میں بے چینی ہوتی ہے۔ معروفات کی تلقین ہے نہ دینی فضاء سے وابستگی سچی محبت عمل پر ابھارتی ہے، سچا عشق اطاعت کا پابند بناتا ہے، ورنہ زبانی دعوی محض دعویٰ ہے اور کچھ نہیں ۔ اللہ ہمیں توفیق عمل نصیب فرمائے۔ آمین