عمارت اسلام کی آخری اینٹ
1965ء کا وہ جذبہ اور وہ کردار ہمارے لیے مشعل راہ ہے کہ اگر ہم نے اس ملک کی حفاظت کرنی ہے اور اسے محفوظ رکھنا ہے اور اسے طاقتور بنانا ہے تو پھر ہمیں اپنی یکجہتی کی حفاظت کرنی ہوگی۔ اپنے اتفاق کی حفاظت کرنی ہوگی۔ ہمیں اس طاقت کو مضبوط کرنا ہوگا۔
چھ اور سات ستمبر دونوں ہی دن پاکستان کی تاریخ میں ایک نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ 6 ستمبر وطن کی سپاہ نے جرات اور بہادری، ایمان، تقویٰ جہاد فی سبیل اللہ کے جذبے سے سرشار ہو کر اور قومی یکجہتی اور قومی اتفاق کی طاقت کے ساتھ دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیے۔
یہ بھی وطن عزیز کی ایک تاریخ ہے 1965ء کہ وطن عزیز کی سپاہ نے اپنی جرات اور بہادری، شہادت کے جذبے، ایمان کی طاقت، جہاد فی سبیل اللہ کا جذبہ، اس طاقت کے ساتھ جب وہ کھڑی ہوئی تو دشمن اس کے سامنے ڈھیر ہو گئے ... اور پھر اس دور میں وطن عزیز اور قوم بھی متحد تھی، ایک جان تھی، اپنے سپاہ کے ساتھ کھڑی تھی تو گویا کہ اس ملک کے دفاع کی جو سب سے پہلی دفاعی لائن ہے، وہ اس قوم کی یک جہتی ہے، اس قوم کا اتفاق ہے، اس قوم کا آپس کا اتحاد ہے۔
دشمن جب بھی اس کے دفاع پر حملہ آور ہوگا، سب سے پہلے اس کی پجہتی اور اس کے اتفاق پہ حملہ آور ہوگا۔ پہلے وہ اس دفاعی لائن پر حملہ آور ہوگا، پہلے وہ اس کی اس طاقت کو ختم کرے گا۔ 1965 ء میں اگر سپاہ اور پاکستان کی افواج نے اس مبارک جذبے کے ساتھ دشمن کو شکست دی ہے تو اس کے ساتھ اس پوری قوم کا آپس کا اتحاد اور آپس کی یکجہتی تھی اور یہ پوری قوم متحد اپنے سپاہ کے ساتھ کھڑی تھی تو دشمن نامراد ہوا۔ یہ وطن عزیز اللہ کی ایک نعمت ہے، اس کی دفاعی لائن ہمارا آپس کا اتفاق اور ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم کسی طرح بھی اس یکجہتی کو اور دفاعی لائن کو خطرے میں نہ ڈالیں، بلکہ اسے مضبوط بھی کریں اور اس کی حفاظت بھی کریں۔
دوسری طرف 7 ستمبر کو مسلمانوں کے عقیدے کی حفاظت ہوئی۔
اسلام کی پوری عمارت جس عقیدے پر کھڑی ہے وہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔ اگر عقیدہ ختم نبوت پر ایمان نہ رہے تو اسلام کی پوری عمارت گر جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے: میری امت میں تمہیں دجال، کذاب پیدا ہوں گے، سارے جھوٹے ہوں گے اور وہ نبوت کا دعوی کریں گے، میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کسی نبی نے نہیں آتا ۔
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں جو سب سے پہلے اسلامی جہاد ہوا، وہ مسیلمہ کذاب کے مقابلے میں یمامہ کے مقام پر ہوا، جسے تاریخ میں جنگ یمامہ سے یاد کیا جاتا ہے اور صحابہ رضوان اللہ اجمعین نے سب سے زیادہ قربانی اس عقیدے کی حفاظت کی خاطر دی۔ پانچ سو سے چھ سو تک صحابہ سو سے چھ سو تک صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہوئے جن میں حق ن میں حفاظ صحابہ کی تعداد 70 بیان کی جاتی ہے۔
یہ ساری قربانی عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت میں دی گئی۔ آپ صلی الہ علیہ سلم کے دور سے یہ سلسلہ چلا آرہا تھا کہ جو شخص نبوت کا دعوی کرتا ، اسلامی حکومت اس کا سر قلم کردیا کرتی تھی۔ اس امت کا سلوک ایسے لوگوں کے ساتھ ہمیشہ یہی رہا ہے۔
اس برصغیر میں 1857ء میں انگریز نے ہمارے لاکھوں مسلمانوں کو شہید کیا لیکن وہ اسلام کی بنیاد اسلام کو نہ ختم کر سکے۔ اس نے ایک نئی موثر تدبیر شروع کی کہ متحدہ ہندوستان میں ایک وکیل قادیان کے گاؤں سے کھڑا کیا اُس وقت متحدہ ہندوستان تھا اور قادیان اس متحدہ ہندوستان کا ایک گاؤں تھا .. وہاں سے ایک وکیل کھڑا کیا، جس کا نام مرزا غلام احمد تھا، اس نے مسلمانوں کے جذبات سے آہستہ آہستہ کھیلنا شروع کیا ۔ کبھی مہدویت کا دعویٰ کیا تو کبھی اپنے آپ کو موعود مسیح کہنے لگا، پھر اس نے دعوی کیا نبوت کا کہ بغیر شریعت کے میں نبی ہوں ۔
بڑھتا چلا گیا ، پھر اس نے صاف اعلان کر دیا، پھر اس کے قادیانی لٹریچر میں یہ سب کچھ موجود ہے کہ میں نبی ہوں، میں رسول ہوں، میری طرف وحی آتی ہے اور میری طرف نئے مسائل بھی آتے ہیں اور نئے مسائل میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ جہاد آج کے بعد سے منسوخ ہو گیا۔ انگریز کا خود کاشتہ پودا تھا، انگریز کا کھڑا کیا ہوا یہ فتنہ تھا۔ علامہ اقبال مرحوم نے انگریز سے کہا کہ تم مردم شماری میں انہیں مسلمانوں میں شامل مت کرو، کیونکہ ان کا عقیدہ نہ ہمارے ساتھ ہے، نہ ان کی عبادت ہمارے ساتھ ہے، نہ ان کا کلمہ ہمارے ساتھ ہے اور نہ ان کی معاشرت ہمارے ساتھ ہے۔
ان کا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں، یہ الگ اقلیت ہے لیکن انگریز کہاں مانتا، اس کا تو مقصد ہی یہی تھا کہ یہ مسلمانوں میں مل جل کے رہیں اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کریں۔ اُس نے تو اس فتنے کو کھڑا ہی اس لیے کیا اور اس نے اپنے تمام وسائل اس فتنے کی آبیاری کے لیے اور اسے طاقتور بنانے کے لیے لگائے اور آج پوری دنیا میں اس فتنے کے مراکز موجود ہیں جو مسلمانوں میں رہ کر کفر کا زہر اگل رہا ہے۔
مسلمانوں میں رہتا ہے اور کفر کا زہر مسلمانوں میں پھیلا رہا ہے۔ پاکستان میں 1953 ء سے لے کر 1974ء تک ایک تحریک چلی انہیں غیر مسلم قرار دینے کے لیے، غیر مسلم تو تھے ہی لوگ بسا اوقات کہتے ہیں کسی کو غیر مسلم بنانا فلاں کا کام ہے۔ نہ نہ ! غیر مسلم تو آدمی خود اپنے عقیدے اور نظریے کی بنیاد کی وجہ سے بنتا ہے۔ اہل علم تو صرف بتاتے ہیں کہ اس عقیدے سے مسلمان نہیں رہتا۔
وہ تو مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کرتے ہیں کہ اس عقیدہ کے ہوتے ہوئے ، اس نظریے کے ہوتے ہوئے یہ مسلمان نہیں رہتا۔ کوئی کسی کو غیر مسلم اور کافر نہیں بنا تا کافر تو خود اپنے نظریے اور عقیدے سے آدمی بنتا ہے۔
1953 ء سے لے کر 1974 ء تک تحریک چلی اور مسلمانوں نے 10 ہزار سے زائد قربانیاں دیں اس تحریک میں، یہ خوش نصیبی تھی کہ مسلمانوں کے تمام مسالک اور تمام عوام اور علماء کی سر پرستی اور قربانی کی وجہ سے اس کے نتائج آئے کہ 1974ء میں پاکستان کی قانون ساز اسمبلی سے جس طبقے کے پاس اقتدار تھا ان کے پاس جب اہل علم کے دلائل آئے اور تمام مسالک کا آپس کا اتفاق سامنے آیا تو وہ بھی اس کے قائل ہونے پر مجبور ہوئے ۔ جب ان کے سامنے دلائل یہ بھی آئے کہ قادیانیوں کا طریقہ یہ ہے کہ جو ان کے مرزا قادیانی کی نبوت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ مسلمان نہیں، بلکہ وہ تو پوری دنیا کے مسلمانوں کو مسلمان نہیں سمجھتے۔
ان کا تو یہ عقیدہ اور نظریہ ہے کہ اللہ کی وحی اس پر بھی آتی ہے، اس کا تو یہ نظریہ اور عقیدہ ہے کہ اس کے پاس جدید مسائل کی وحی بھی آتی ہے، وہ تو قرآن کی بہت ساری آیات کو بھی مسخ کر کے پیش کرتا ہے تو اس وقت کی قانون ساز اسمبلی جس میں بہت کمزور ایمان والے بھی ہیں اور جن کا ایمان بہت کمزور تھا، جب اہل علم کے یہ سارے دلائل اکٹھے آئے تو اس پر سب کا اتفاق ہوا کہ یہ گروہ، اس کا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
قادیانی مسئلہ پر مشتمل قومی اسمبلی کا خفیہ ریکارڈ
: 29 مئی 1974 کو چناب نگر ریلوے سٹیشن پر قادیانی اوباشوں نے اُس وقت کے قادیانی دھرم کے چیف گرو مرزا طاہر احمد کی قیادت میں نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء پر قاتلانہ حملہ کیا۔ اس کے رد عمل میں پاکستان میں تحریک چلی ... اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو تھے۔ تھے ۔ انہوں نے قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کرانے کے لئے قومی اسمبلی کو خصوصی کمیٹی میں تبدیل کر دیا۔ اُس وقت قومی اسمبلی کے سپیکر جناب صاحبزادہ فاروق علی خان تھے وہ قومی اسمبلی کی اس خصوصی کمیٹی کے بھی چیئر مین قرار پائے ۔ ان کی صدارت میں مہینہ بھر کمیٹی کے اجلاس وقفہ وقفہ سے منعقد ہوتے رہے۔
تب یہ طے پایا کہ قادیانی گروپ ( جو مرزاغلام احمد قادیانی کو نبی مانتے تھے ) اور لاہوری گروپ ( جو مرزاغلام احمد قادیانی کو مجدد مانتے تھے ) کے سربراہان کو خصوصی کمیٹی میں بلا کر ان کا موقف سن کر فیصلہ کیا جائے۔ قادیانی جماعت کی طرف سے مرزا ناصر احمد اور لاہوری گروپ کی طرف سے صدر الدین لاہوری ، سعود بیگ لاہوری اور عبد المنان لاہوری پیش ہوئے۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو قومی رہنما تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ قادیانی مسئلہ ایسے طور پر حل ہو کہ باہر کی دنیا کا کوئی شخص اس پر حرف گیری نہ کر سکے ۔ اس لئے آپ نے قادیانی مسئلہ کو قومی اسمبلی کے سپرد کیا اور طے کیا کہ قادیانی ولاہوری دونوں گروپوں کے لوگوں کو بلا کر ان سے مباحثہ کر کے قادیانی مسئلہ کو ارکان پارلیمنٹ سمجھیں اور پھر آزادانہ فیصلہ کریں۔ اُن دنوں قومی اسمبلی کا اجلاس پاکستان سٹیٹ بینک اسلام آباد کے ہال میں ہوتے تھے۔ چنانچہ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا پہلا اجلاس 5 اگست 1974 ء بروز پیر صبح دس بجے قومی اسمبلی ہال میں منعقد ہوا۔
اجلاس کی کاروائی کا خاكه 5 اگست سے لے کر 10 اگست تک 6 دن اور پھر 20 اگست سے لے کر 24 اگست تک 5 دن کل گیارہ دن مرزا ناصر احمد چیف قادیانی گروہ کا بیان اور اس پر جرح ہوئی۔
27 اگست 28 اگست دو دن صدر الدین ، عبدالمنان اور مرزا مسعود بیگ لاہوری گروپ کے نمائندوں کا بیان اور جرح ہوئی۔ کل جماعتی مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی طرف سے ملت اسلامیہ کا قادیانی فتنہ کے خلاف ایک نیا موقف پیش کرنا تھا، چنانچہ مرکزی مجلس عمل کے سر براہ شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ نے راولپنڈی کے پارک ہوٹل میں قیام کا ارادہ فرمایا اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان کی لائبریری سے قادیانی کتب اور اخبارات کا ایک ذخیرہ راولپنڈی منتقل کیا۔ قادیانی فتنہ سے متعلق مذہبی بحث لکھنے کے لئے شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب کراچی کو اور سیاسی بحث لکھنے کے لئے حضرت مولانا سمیع الحق صاحب اکوڑہ خٹک کو، راولپنڈی بلایا اور حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ کے حکم پر پیر طریقت سید نفیس الحسینی رحمۃ اللہ علیہ اپنے کا تب شاگردوں کی ٹیم کے ہمراہ تشریف لائے جو حصہ محضر نامہ کا تیار ہوتا . وہ حضرت سید نفیس الحسینی رحمۃ اللہ علیہ کے سپر د کیا جاتا اور حضرت اُس کو کتابت کراتے۔
اگلے دن 29 اگست کو مفکر اسلام مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ نے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی میں پڑھنا شروع کیا 30, 29 اگست کو مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ نے اپنا بیان مکمل کیا۔ مجاہد ملت حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی رحمہ اللہ علیہ نے اپنی طرف سے ایک علیحدہ محضر نامہ تیار کیا، جسے میرے والد محترم حکیم ملت مولانا عبد الحکیم رحمۃ اللہ علیہ نے 30 اگست کے اجلاس کے آخری حصے میں پڑھنے کا عمل شروع کیا، جو 31 اگست کے اجلاس کے اختتام تک مکمل ہو گیا۔
5 اگست کو یہ کاروائی شروع ہوئی اور 7 ستمبر کو مکمل ہوئی ، 21 دن یہ کاروائی جاری رہی جس کا خلاصہ یوں ہے۔ مرزا ناصر احمد کا بیان 11 دن ہوا لاہوری گروپ کا بیان 2 دن ہوا مفکر اسلام مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ کا بیان 2 دن ہوا.... حکیم ملت مولانا عبد الحکیم رحمۃ اللہ علیہ کا بیان 1 دن ہوا ممبران قومی اسمبلی کے بیانات 3 دن ہوئے ممبران و یحییٰ بختیار کے بیانات 2 دن ہوئے ۔ کل 21 دن کی کاروائی تھی۔ 7 ستمبر کو قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں قادیانی ، لاہوری مرزا قادیانی کے ماننے والے دونوں گرہوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ اُس زمانے میں قومی اسمبلی کی یہ تمام کاروائی، آڈیوریکارڈ کے زریعے محفوظ کی گئی اور خصوصی کمیٹی کی اس تمام کا روائی کو ٹاپ سیکرٹ (انتہائی خفیہ ) قرار دے کر سر بمہر کر دیا گیا۔
قادیانیوں کو اقلیت دینے کا خفیہ پارلیمان ریکارڈ اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے حکم پر 38 سال بعد اوپن کر دیا گیا ہے۔ 20 جنوری 2012ء جنگ میں شائع ہونے والے مضمون کے مطابق .. کوئی بھی ریکارڈ 30 سال تک خفیہ رہ سکتی ہے۔ 30 سال بعد اُس کو اوپن کر دیا جاتا ہے۔
چنانچہ 38 سال بعد موجودہ اسپیکر نے اُس خفیہ دستاویز کو اوپن کر دیا ہے۔ اور ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ قادیانی آئینی بل کا خفیہ آڈیو ریکارڈ بے نظیر دور 1993ء میں جل گیا تھا.... اُس خفیہ ریکارڈ کو لکھ کر محفوظ کرنے پر قومی اسمبلی کو 46 لاکھ روپے خرچ کرنا پڑے۔ ہ خفیہ ریکارڈ اوپن ہونے کے باوجود دستیاب نہیں ہے۔ مگر لندن کی ایک ویب سائیٹ پر ساری کاروائی موجود ہے۔ جو اکیس حصص کے 3083 صفحات پر مشتمل ہے۔ پندرواں حصہ حکیم ملت مولانا عبد الحکیم رحمۃ اللہ علیہ نے جو محضر نامہ قومی اسمبلی میں پڑھا اتھا اُس پر مشتمل ہے جس کے کل صفحات 234 ہیں۔ جب مسلمانان پاکستان نے قانونی طور پر بھی اس طبقے کو غیر مسلم قرار دیا اور ایک الگ اقلیت قرار دیا لیکن آج یہ اقلیتی حقوق سے بھی محروم ہیں۔ اس لیے کہ لیے کہ یہ طبقہ آج تک اپنے آپ کو اقلیت نہیں مانتا ہے۔ اگر یہ اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت مان لے تو جیسے ہندو، سکھ دیگر اقلیتیں ہیں وہ حقوق اسے بھی ملیں گے۔
لیکن یہ تو عالمی استعمار کی سازش ہے کہ اسے مسلمان ہی رہنا ہے اور دنیائے کفر کی طاقت ان کے پیچھے ہے کہ اسے مسلمان ہی رہنا ہے۔ مسلمانوں ہی کے اندر مسلمانوں ہی کے حقوق دیتے ہیں۔ اگرچہ مسلمانوں کے ہاں یہ قانون پاس ہو گیا۔ لیکن اہل باطل جس نے اس پودے کی پرورش کی .... اس کو کاشت کیا اور اس فتنے کے پیچھے اپنے وسائل لگائے ۔ اس کا تو مشن ہی یہی ہے کہ یہ مسلمانوں میں رہے اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرے تو یہ ایک تاریخ ہے وطن عزیز کی کہ جہاں مسلمانوں نے بڑی قربانیاں دیں۔ لیکن چوں کہ آج نئی نسل کے سامنے اس کے حقائق نہیں ہیں تو عام مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بھی مسلمانوں کے دیگر فرقوں کی طرح ایک فرقہ ہے۔ دیگر مسلکوں کی طرح ا کی طرح ایک مسلک ہے۔ حالاں کہ اس فتنے کی بنیاد کفر پر ۔ بنیا د کفر پر ہے اور اسلام کے اس بنیادی عقیدے کے خلاف ہے۔ جس پر پورے اسلام کی عمارت کھڑی ہے عقیدہ ختم نبوت ہے
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّين -
یہ تو اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی خصوصیت ہے کہ جس سلسلہ نبوت کا حضرت آدم علیہ السلام سے آغاز ہوا ... اس کا اختتام محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مبارک عمارت کی سب سے آخری اینٹ ہے۔ جس سے نبوت کا پورا باب ختم ہو گیا اور کوئی آدمی اس عقیدے پر حملہ آور ہو تو میں نے عرض کیا کہ تاریخ اسلام میں اُمت مسلمہ نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ اس عہد کی سب سے بڑی شخصیت جو انتہائی درجے کی رقت قلب، دل کی نرمی رکھنے والی شخصیت تھی اور انتہائی درجے کی شفقت رکھنے والی شخصیت، وہ ہے خلیفہ المؤمنین حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ لیکن جب آپ کے سامنے یہ فتنہ مسیلمہ کذاب کی شکل میں آیا تو آپ نے اسلامی جہاد کا آغاز اس فتنے کے مقابلے میں کیا اور اس کے مقابلے میں مسلمانوں نے بہت بڑی قربانیاں دیں۔ اللہ تعالی اس عقیدہ ختم نبوت اور ملک عزیز کی حفاظت فرمائے۔ آمین