40 خصوصیات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

1.  عالمگیر رسالت

پہلے تمام انبیاء علیہم السلام کسی علاقے یا مخصوص قوم کی طرف مبعوث کئے جاتے تھے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت تک آنے والی تمام انسانیت کے نبی ہیں۔ ارشاد باری تعالی ہے: وَمَا أَرْسَلْنك إِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ. اور (اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم ) ہم نے تم کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔“ (سورۃ السباء: 28) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ” پہلے ہر نبی اپنی قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا اور مجھے ( قیامت تک آنے والے) سب لوگوں کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا ہے۔“ (صحیح البخاری: 335)

2 تمام انبیاء پر برتری

اللہ تعالیٰ نے عالم ارواح میں تمام انبیاء سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور مدد کرنے کا عہد لے کر یہ ثابت کر دیا کہ آپ ہی سارے انبیاء سے افضل ہیں۔ ارشاد باری تعالی ہے : وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا أَتَيْتُكُم مِّنْ كِتَابٍ رَّحِكْمَةٍ ثُمَّ جَانَكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ قَالَ ءَ أَقْرَرْتُمْ وَأَخَذَتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ اِصْرِى قَالُوا أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشَّاهِدِينَ. اور جب اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا کہ جب میں تم کو کتاب اور دانائی عطا کروں پھر تمہارے پاس کوئی پیغمبر یعنی صل للہ علیہ سلم آئے جو تمہاری کتاب کی تصدیق کرے تو تمہیں ضرور اس پر ایمان لانا ہوگا اور ضرور اُس کی مدد کرنی ہوگی اور (عہد لینے کے بعد ) پوچھا کہ بھلا تم نے اقرار کیا اور اُس اقرار پر میرا ذمہ لیا ( یعنی مجھے ضامن ٹھہرایا انہوں نے کہا (ہاں) ہم نے اقرار کیا اللہ نے فرمایا کہ تم ( اس عہد و پیمان کے ) گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں ۔ (سورۃ آل عمران: 81) معراج کی سیر میں بھی اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء علیہم السلام کی امامت کا منصب آپ صلی للہ علیہ سلم کو عطافرمایا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بڑی عظمت کی بات ہے۔

3.  خاتم النبین کا اعزاز :

فرمان باری تعالی ہے : مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا . (سورۃ الاحزاب: 40) و محمد صلی اللہ علیہ سلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں بلکہ اللہ کے پیغمبر اور نبیوں ( کی نبوت) کی مہر (یعنی اس کو ختم کر دینے والے) ہیں۔ اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری مثال اور ان تمام انبیاء کرام کی مثال جو مجھ سے پہلے آچکے ہیں اس آدمی کی طرح ہے کہ جس نے مکان بنایا اور بہت اچھا اور خوبصورت بنایا لیکن مکان کے ایک کونے میں سے ایک اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی لوگ اس کے مکان کے چاروں طرف گھومے وہ مکان ان کو بڑا اچھا لگا اور وہ مکان بنانے والے سے کہنے لگے کہ آپ نے اس جگہ ایک اینٹ کیوں نہ رکھ دی وہ اینٹ میں ہی ہوں اور میں خاتم النبین ہوں۔ (صحیح بخاری: 3535)

4 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرو کا رسب سے زیادہ

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( أَنَا أَكْثَرُ الْأَنْبِيَاءِ تَبَعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ). (صحیح مسلم : 196) قیامت کے دن سب سے زیادہ پیرو کار میرے ہوں گے۔

5.  سورہ فاتحہ اور سورۃ بقرہ کا تحفہ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اُنہوں نے اُوپر سے دروازہ کھلنے کی زور دار آواز سنی اپنا سر اٹھایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ یہ آسمانوں کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جو آج سے پہلے بھی نہیں کھلا ، اس سے ایک فرشتہ نازل ہوا ہے جو آج سے پہلے کبھی زمین پر نازل نہیں ہوا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سلام عرض کیا ہے اور کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (2) دونور مبارک ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے یہ نور کسی نبی کو عطا نہیں کئے گئے (وہ یہ ہیں) سورہ فاتحہ اور سورہ بقرہ کی آخری دو آیات، مزید فرمایا: کہ جو شخص یہ دو آیات پڑھے گا اُسے اُس کی مانگی ہوئی چیز ضروری دی جائے گی ۔ (صحیح مسلم: 1877)

خصوصیات :8،7،6

مال غنیمت کی حلت تمام زمین کا پاکیزہ اور مسجد ہونا ۔ ایک ماہ کی مسافت سے رعب : جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے پانچ ایسی خصوصیات سے نوازا گیا ہے جو مجھ سے پہلے کسی کو عنایت نہیں کی گئیں

 -1- ہر نبی کو خاص اس کی قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا اور مجھے ہر سرخ اور سیاہ کی طرف بھیجا گیا ہے۔

“ 2 پہلے کسی نبی کے لیے مال غنیمت حلال نہ تھا لیکن میرے لیے اسے حلال کیا گیا ہے۔

-3  اور صرف میرے لیے ہی تمام زمین پاک مطہر اور مسجد بنادی گئی ہے لہذا جو شخص کہ پالے اس کو نماز وہ اسی جگہ نماز پڑھ لے۔

“ -4 اور میری ایسے رعب سے مدد کی گئی جو ( لوگوں پر ) ایک ماہ کی مسافت سے طاری ہو جاتاہے۔

“ -5 اور مجھے شفاعت عطا کی گئی ہے۔“ (صحیح مسلم: 1163)

9 روز قیامت سفارش کا حق :

حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وو مجھے اختیار دیا گیا کہ میں شفاعت کو اختیار کرلوں یا اپنی نصف امت جنت میں داخل کروالوں ، تو میں نے شفاعت کو اختیار کر لیا اور یہ اس شخص کے لیے ہے جس نے موت کے تک اللہ کے ساتھ شرک نہ کیا ۔ (جامع الترمذی: 2441)

اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام لوگوں کو جمع فرمائے گا اور لوگ قیامت کی پریشانی دور کرنے کی کوشش کریں گے ( اور ایک حدیث میں ہے کہ لوگوں کے دلوں میں یہ بات ڈال دی جائے گی کہ کسی طرح قیامت کی پریشانی کو دور کیا جائے) تو وہ کہیں گے ہم کسی شخص کو اللہ کی بارگاہ میں شفاعت کرنے کے لیے لاتے ہیں تاکہ وہ ہمیں اس جگہ کی پریشانی سے نجات ولائے تو انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : پھر لوگ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور عرض کریں گے کہ آپ آدم علیہ السلام ہیں ... تمام انسانوں کے باپ ہیں ، اللہ تعالی نے آپ کو اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا اور آپ کے جسم میں اپنی روح پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا کہ آپ کو سجدہ کریں۔ آپ اپنے رب سے ہماری شفاعت کریں تا کہ وہ ہم کو اس پریشانی سے نجات دے۔ حضرت آدم علیہ السلام اس موقع پر اپنی خطا یاد کریں گے اور فرمائیں گے کہ یہ میرا مقام نہیں ہے۔

 (ان کو اپنے رب سے حیا آئے گی لیکن تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ جو کہ پہلے رسول ہیں۔ اللہ تعالی نے ان کو مبعوث فرمایا تھا، پھر لوگ حضرت نوح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہونگے اور حضرت نوح علیہ السلام بھی معذرت کر لیں گے اور فرمائیں گے کہ مجھ سے ایک خطا ہوگئی تھی لہذا مجھے اپنے رب سے حیا آتی ہے۔ تم ایسا کرو ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنا خلیل بنایا تھا تو لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی معذرت کریں گے اور اپنی خطا کا ذکر کر کے رب کے سامنے اس فعل سے باز رہیں گے اور فرما ئیں گے کہ موسیٰ کے پاس جاؤ، اللہ تعالیٰ نے ان سے کلام فرمایا تھا اور ان کو تو رات عطا کی تھی۔ تو لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی خطا کا ذکر کر کے معذرت کر لیں گے اور اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے سے حیا کریں گے اور کہیں گے کہ تم عیسی کے پاس جاؤ جو کہ روح اللہ اور کلمتہ اللہ ہیں لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو حضرت عیسی علیہ السلام فرمائیں گے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤ جن کے پہلے اور پچھلے سب گناہ اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر لوگ میرے پاس حاضر ہوں گے اور میں اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کروں گا تو مجھے اجازت مل جائے گی پھر میں سجدہ ریز ہو جاؤں گا جتنی دیر اللہ تعالیٰ چاہیں گے مجھے اسی حالت میں رہنے دیں گے پھر مجھے کہا جائے گا۔ اے محمد صلی اللہ علیہوسلم اپنا سر مبارک اٹھا ئیں اور کہیں آپ کی بات قابل سماعت ہے۔ آپ سوال کریں آپ کو دیا جائے گا ، سفارش فرمائیں آپ کی سفارش قابل قبول ہے۔

تو اس موقع پر میں اپنے رب تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کروں گا جو اس وقت مجھے سیکھائی جائے گی پھر میں سفارش کروں گا تو میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی میں ان کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا پھر میں سجدے میں چلا جاؤں گا جتنی دیر اللہ تعالیٰ چاہیں گے مجھے اسی حالت میں چھوڑ دیں گے پھر کہا جائے گا۔ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہیں آپ کی بات قابل سماعت ہے، سوال کیجئے عنایت کیا جائے گا، سفارش فرمائیں، قبول کی جائے گی۔ تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا تو رب تعالیٰ کی تحمید ات کروں گا جو کلمات اللہ تعالیٰ مجھے اس وقت سکھائیں گے پھر میں سفارش کروں گا تو میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی پس میں ان کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔ راوی حدیث کہتے ہیں معلوم نہیں کہ تیسری یا چوتھی دفعہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرمائیں گے جہنم میں اب صرف وہ ہیں جن کے لیے ہمیشہ ہمیشہ جہنم ہے اور قرآن نے ان کے لیے ہمیشہ جہنم میں رہنا واجب کر دیا ہے۔ (صحیح مسلم : 423)

10 آسمانوں کی سیر

اللہ تعالی نے آپ کو اپنے پاس بلا کر معراج اور سیر کروائی اور کئی ایک تحائف سے نوازا، ان میں سے سر فہرست نماز ہے یہ اعزاز کسی دوسرے نبی کو حاصل نہیں، ارشاد باری تعالی ہے: سُبْحْنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بِرَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ ايتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ . ( سورة الاسراء : 1) وہ (ذات) پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجد الحرام (یعنی خانہ کعبہ ) سے مسجد اقصیٰ (یعنی بیت المقدس) تک جس کے گردا گر دہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیا تا کہ اُسے اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھائے ، بیشک وہ سنے والا (اور ) دیکھنے والا ہے۔

11. نماز میں آگے پیچھے یکساں دیکھنا

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " کیا تم سمجھتے ہو کہ میری توجہ صرف سامنے ہوتی ہے اللہ کی قسم ! تمہارا رکوع اور سجدہ مجھ سے مخفی نہیں ہوتا میں تمھیں اپنی پیٹھ پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔“ (صحیح بخاری: 418)

12. آسمانوں کی سیر

آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے زمین سے اٹھیں گے: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں سب سے پہلا شخص ہوں جس سے قیامت کے دن زمین ( قبر ) پھٹے گی ۔ اور والا اور وہ پہلا شخص ہوں جس کی سفارش قبول کی جائے گی ۔ (صحیح مسلم: 1782) الشخص ور بعض دوسری روایات میں یہ الفاظ زائد ہیں: میں سب سے پہلے سفارش کرنے

13.سب سے پہلے پل صراط عبور کریں گے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جہنم کے اوپر ایک پل رکھا جائے گا سب سے پہلے میں اس سے گزروں گا ۔“ (صحیح بخاری: 6573)

14.سب سے پہلے جنت میں داخلہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( دنیا میں آنے میں ) ہم آخری ہیں قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے ۔ ( صحیح بخاری: 876) ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا ۔“ (صحیح مسلم: 196)

15. جنت میں بلا حساب داخلہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے ستر ہزار افراد بغیر حساب جنت میں داخل ہوں گے، ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار مزید ہوں گے یہ امتیاز کسی اور نبی کو حاصل نہیں ۔ ( صحیح بخاری: 6541)

16 جنت میں سب سے زیادہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم :

جنتیوں کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی اسی (80) صفیں اُمت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور چالیس باقی دوسری امتوں کی ہوں گی ۔ (جامع الترمذی: 2546)

17 دل بیدار، آنکھیں سوتی ہیں

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے آپ سے استفسار کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں ہوتا ۔ ( صحیح بخاری: 3569)

18 سونے سے وضو نہیں ٹوٹتا : اللہ تعالی نے آپ کو یہ اعزاز بھی دیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سونے کی وجہ سے وضو نہیں ٹوٹا تھا، ابن عباس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے حتی کہ خراٹے بھر نے لگے پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا ۔ ( صحیح بخاری: 138)

﴿19 اگلے پچھلے گناہوں کی معافی

اللہ تعالی نے سابقہ انبیاء میں سے کئی انبیاء کا تذکرہ فرمایا اور ان کی غلطیوں کی نشاندہی بھی کی مثلاً : اور آدم علیہ السلام نے اپنے پروردگار کے حکم کے خلاف کیا تو ( وہ اپنے مطلوب سے ) بے راہ ہو گئے، پھر ان کے پروردگار نے ان کو نو از اتو ان پر مہربانی سے توجہ فرمائی اور سیدھی راہ بتائی۔ (سورۃ طہ: 122-121) مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مطلق فرمایا: تا کہ اللہ تمہاری اگلی اور پچھلی لغزشیں بخش دے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دے۔“ (سورۃ الفتح (2) عطاء بن رباح رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور عبید بن عمیر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ نے درخواست کی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ہمیں کوئی ایسا واقعہ بتائیں جو آپ کو سب سے زیادہ بھلا لگا ہو۔ یہ سن کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رونے لگیں اور فرمایا: ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کیلئے کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے عائشہ ! آج مجھے اپنے رب کی عبادت کرنے دو۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور وضو فرمایا، پھر نماز کیلئے کھڑے ہو گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل روتے رہے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی تر ہو گئی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم روتے رہے، یہاں تک کہ قمیص کا اگلا حصہ تر ہو گیا اور پھر روتے رہے حتی کہ زمین بھی نمدار ہو گئی۔ اس دوران میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بھی اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کا کہنے آگئے۔ دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رورہے ہیں۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ رورہے ہیں؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اگلی پچھلی سب لغزشیں معاف کر دی ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ آج رات مجھ پر کچھ آیات نازل ہوئی ہیں۔ اُس آدمی کی تباہی و بربادی ہے جو ان کو پڑھے اور ان میں غور نہ کرے۔اور وہ یہ آیات ہیں: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ زمین و آسمان کی پیدائش میں اور رات اور دن کے باری باری سے آنے میں ہوش مند لوگوں کیلئے بہت سی نشانیاں ہیں۔ (سورۃ آل عمران: 190)، ( صحیح ابن حبان : 2/386)

20.                   نماز بیٹھ کر پڑھنے میں بھی پورا ثواب

اسلام کا عام قانون ہے کہ اگر آدمی بغیر عذر کے بیٹھ کر نماز پڑھے گا تو اسے نصف ر کرنہ ( آدھا ) ثواب ملے گا لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پھر بھی پورا ثواب ملے گا۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے آدمی کی بیٹھ کر نفل نماز نصف ثواب رکھتی ہے اور آپ بیٹھ کر پڑھتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں لیکن میں تم جیسا نہیں ہوں ۔ (صحیح مسلم: 735)

﴿21 تمہیں جوانوں کی قوت

اللہ تعالیٰ نے آپ کو تھیں آدمیوں کی طاقت جتنی طاقت عطا کر رکھی تھی اس کی دلیل حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات یا دن میں بیک وقت اپنی تمام ازواج کے قریب جاتے تھے، وہ نو تھیں۔ راوی حدیث قتادہ رضی اللہ عنہ نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی طاقت رکھتے تھے؟ تو انھوں نے بتایا کہ : ہم باتیں کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تیس مردوں کی قوت دی گئی ہے ۔“ (صحیح بخاری: 209)

22 آپ صلی الہ علہ و سلم کو خواب میں دیکھنا حقیقت میں دیکھنا

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان میری شکل اختیار نہیں کر سکتا لہذا جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھے ہی دیکھا۔“ (صحیح بخاری: 110) لیکن ضروری ہے کہ خواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے والا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیے اور صورت کی شناخت رکھتا ہو۔

23 جامع الکلمات کی عطا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے جامع کلمات کے ساتھ بھیجا گیا ہے اور رعب کے ذریعے سے میری مدد کی گئی ہے۔ ( صحیح بخاری: 2977) جامع کلمات سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گفتگو کے لیے ایسے کلمات نوازے تھے کہ جو مختصر ہوتے تھے مگر معنی و مفہوم کے اعتبار سے بہت وسیع ہوتے تھے مثلا چند ایک مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔ :1 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ“. والد جنت کا درمیان والا دروازہ ہے۔ (ترمذی: 1822) :2 الندم . گناه پر شرمندگی تو بہ ہے۔ (سنن ابن ماجہ: 4242) :3 تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ . تیرا اپنے بھائی کے سامنے مسکرانا تیرے لئے صدقہ ہے۔ (ترندی: 1879) :4 الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ. دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔ (صحیح مسلم :5656) :5 مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ. جس نے لوگوں کا شکر ادا نہ کیا اس نے اللہ کا را دانہ کیا اس نے اللہ کا شکر ادا نہ کیا۔ (ترندی: 1778)

24آ آپ صلی الہ علیہ وسلمکی موجودگی عذاب سے بچاؤ کی ضامن: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسل کو اللہ تعالیٰ نے دیگر انبیاء سے یہ بھی اعزاز عطا فرمایا کہ آپ جب تک اپنے اصحاب کے اندر موجود (زندہ) رہیں گے اللہ تعالیٰ انہیں عذاب نہیں دیں گے اور امت کے لیے بھی اعزاز رکھا کہ اگر ان میں استغفار کرنے والے موجود ہوں گے تو اللہ تعالی اس اُمت کے لوگوں کو عذاب نہیں دے گا ... ارشاد باری تعالی ہے: وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ اور اللہ بھی ایسا نہیں کہ انہیں عذاب دے جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ان میں موجود ہوں، اور اللہ انہیں عذاب دینے والا نہیں کہ وہ بخشش مانگتے ہوں۔ (سورۃ الانفال: 33)

25.                   قبر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق سوال: ہر انسان اس دنیا فانی کو چھوڑ کر جانے والا ہے جب بھی اس کی روح قبض کی جاتی ہے کچھ دیر بعد دو فرشتے منکر نکیر سوال و جواب کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں اور چار سوال کرتے ہیں: تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے ؟ تیرا نبی کون ہے؟ جب وہ جواب دے لیتا ہے تو پوچھتے ہیں یہ تجھے کیسے پتہ چلا اور پوچھے گئے سوال سے مراد نبی محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہوتے ہیں یہ اعزاز بھی کسی نبی کو حاصل نہیں، اگر میت نیک ہے تو یہ اچھی خوبصورت شکل میں آتے ہیں اور اگر میت بری ہے تو ڈراونی شکل میں آتے ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” جب مردہ کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے تو اس کے پاس کالی آنکھوں والے دو فرشتے آتے ہیں جن میں سے ایک منکر اور دوسرا نگیر ہوتا ہے اور وہ دونوں اس میت سے فرماتے ہیں وہ دونوں اس مردہ سے پوچھتے ہیں کہ تم اس آدمی یعنی مد صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کیا کہتے تھے؟ اگر وہ آدمی مومن ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں اور اس کے بھیجے ہوئے (رسول) ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور بلا شبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، (یہ سن کر ) وہ دونوں فرشتے فرماتے ہیں۔ ہم جانتے تھے کہ تو یقینا یہی کہے گا، اس کے بعد اس کی قبر کی لمبائی اور چوڑائی میں ستر سترگز کشادہ کر دی جاتی ہے اور اس مردہ سے کہا جاتا ہے کہ (سو جاؤ) مردہ کہتا ہے ( میں چاہتا ہوں) کہ اپنے اہل و عیال میں واپس چلا جاؤں تا کہ ان کو اپنے اس حال سے باخبر کر دوں۔ فرشتے اس سے فرماتے ہیں تو اس دُلہن کی طرح سو جا، جس کو صرف وہی آدمی جگا سکتا ہے جو اس کے نزدیک سب سے محبوب ہو یعنی ہر کسی کا جگانا اچھا نہیں لگتا کیونکہ اس سے اسکی وحشت ہوتی ہے البتہ جب محبوب جگاتا ہے تو اچھا لگتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس جگہ سے اٹھائے۔ اور اگر وہ مردہ منافق ہوتا ہے تو کہتا ہے کہ میں نے لوگوں کو جو کچھ کہتے سنا تھا وہی میں کہتا تھا لیکن میں اس کی حقیقت کو نہیں جانتا ( منافق کا یہ جواب سن کر ) فرشتے فرماتے ہیں ہم جانتے ہیں کہ یقینا تو یہی کہے گا ۔ اس کے بعد ) زمین کو مل جانے کا حکم دیا جاتا ہے، چنانچہ زمین اس مردہ کو اس طرح دباتی ہے کہ اس کی دائیں پسلیاں بائیں اور بائیں پسلیاں دائیں نکل آتی ہیں اور اسی طرح ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالی اس کو اس جگہ سے اٹھائے۔ (جامع الترندی: 1071)

﴿26 زمینی خزانوں کی چابیاں: اس دوران میں کہ میں سویا ہوا تھا، زمینی خزانوں کی چابیاں لا کر میرے ہاتھ پر رکھ دی گئیں راوی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو چلے گئے اور تم ان خزانوں کو نکال رہے ہو۔ ( صحیح بخاری: 2977)

(27) مقام وسیلہ اور درجات فضیلہ کی عطا: مقام وسیلہ جنت میں اعلیٰ ترین مقام ہے جو اللہ تعالیٰ صرف جناب محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو روز قیامت عطا فرمائیں گے۔ ارشاد باری تعالی ہے : عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا قریب ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود عطا فرمائے گا۔ (سورۃ الاسراء: 79) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا تھا کہ : ”جو آدمی میرے لیے اللہ تعالیٰ سے اس مقام وسیلہ کی دعا کرے گا میں روز قیامت اس کی سفارش کروں گا ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اذان سن کر یہ کلمات کہے: اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدٍ الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثُهُ مَقَامًا مَّحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ. یا اللہ ! اس توحید کی عمل دعوت اور قائم ہونے والی نماز کے پروردگار ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ، بزرگی اور مقام محمود عطا فرما جس کا تو نے اس سے وعدہ فرمایا ہے۔ تو قیامت کے دن اسکی سفارش کرنا میرے ذمہ ہوگی ۔ (جامع الترندی: 3611)

28 عرش کے قریب خاص مقام : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روز محشر مجھے جنتی لباس پہنایا جائے گا اور آپ کا قیام عرش کے دائیں طرف ہوگا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سب سے پہلے زمین سے نکلوں گا پھر مجھے جنتی لباس پہنایا جائے گا پھر میں عرش کے دائیں جانب کھڑا ہو جاؤں گا میرے سوا تمام مخلوق میں سے کوئی بھی اس جگہ کھڑا نہ ہو گا۔ (جامع الترندی: 3611)

29 امت محمدیہ کو امتیازی حیثیت: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان کی طرف گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِينَ (اے) مومن لوگوں کے گھر والو ! تم پر سلام ہو اور ہم ان شاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں ۔ (صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی الہ علیہ کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ فرمایا: تم میرے صحابہ ہو، میرے بھائی ابھی نہیں آئے ہیں۔ میں حوض (کوثر) پر سب سے آگے ہوں گا۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اپنے بعد والے امتیوں کو کس طرح پہچانیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا خیال ہے ایک آدمی کے کالے سیاہ گھوڑوں میں سیاہ جسم و سفید اعضاء والے گھوڑے ہوں تو وہ اپنے گھوڑے پہچان نہیں لے گا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس وہ (امتی) قیامت کے دن وضو کی وجہ سے سفید چمکتے چہرے، ہاتھوں ، قدموں کے ساتھ آئیں گے۔ اور میں حوض پر انکے کے آگے ہوں گا پھر میری امت کے کچھ لوگوں کو مجھ سے روکا جائے گا جس طرح گم شدہ اونٹ ہٹایا جاتا ہے میں آواز دوں گا آؤ آؤ ( پانی پیو) تو کہا جائے گا انہوں نے دین کو بدل دیا تھا ( بدعتی ہو گئے تھے ) میں کہوں گا دور ہو جاؤ ، دور ہو جاؤ۔ (صحیح مسلم : 247)

30 روز قیامت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رشتہ داری کا برقرار رہنا: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ جب عمر رضی اللہ عنہ نے اُم کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا تو میں نے انہیں لوگوں سے کہتے ہوئے سنا: تم مجھے مبارک باد کیوں نہیں دیتے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: قیامت کے روز ہر تعلق داری اور رشتہ داری ٹوٹ جائے گی سوائے میری تعلق داری اور رشتہ داری کے۔ (مستدرک حاکم : 142/3)

31.                   ریاض الجنہ کی عنایت: نبی مکرم محمدصلی الہ علہ سلم کواللہ تعالی نے یہ اعزاز بھی عطا فرمایا ہے کہ آپ کے گھر اور منبر کے درمیانی جگہ کو اللہ تعالیٰ نے جنت کا ٹکڑا فرمایا ہے اور وہاں نماز پڑھنے کی تلقین بھی فرمائی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے گھر اور منبر کی درمیانی جگہ جنت کا باغیچہ ہے۔ ( صحیح بخاری: 1888)

32شہر کوثر کا اعزاز: روز قیامت میدان محشر میں اللہ تعالیٰ ہر نبی کو ایک حوض عطا فرمائے گا جس سے وہ اپنی اپنی امت کو پانی پلائیں گے جو اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم کو بھی عطا فرمائیں گے لیکن شہر کوثر اللہ تعالی آپ کو جنت میں عطا فرمائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے جب یہ سورت نازل فرمائی: إِنَّا أَعْطَيْنكَ الْكَوْثَرَ . فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُ . إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْابْتَرُ . (سورة الكوثر ) (اے محمد !) ہم نے تم کو کوثر عطا فرمائی ہے۔ تو اپنے پروردگار کے لئے نماز پڑھا کرو اور قربانی کیا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ تمہارا دشمن ہی بے اولا در ہے گا۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: کوثر جنت میں ایک نہر ہے جس پر خیر کثیر ہے آپ کی ساری امت اس شہر پر پانی پینے جائے گی اس کے بر تن آسمان کے تاروں کی طرح بے شمار ہوں گے۔“ (صحیح مسلم: 247)

33 ساتھی جن کا اسلام لانا: حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر شخص کے ساتھ ایک جن ساتھی ہوتا ہے اور ایک فرشتہلوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ کے ساتھ بھی؟ تو آپ نے فرمایا: ” میرے ساتھ بھی لیکن میرے جن کے خلاف اللہ تعالیٰ نے میری مدد کی اور وہ مسلمان ہو گیا ہے اب وہ بھی مجھے نیکی ہی کا مشورہ دیتا ہے ۔ ( صحیح مسلم : 2814)

34.                   آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت محمدیہ کو اعزاز : رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے دیگر انبیاء پر چھ فضیلتیں عطا فرمائی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ میری امت کو خیر الامم ( بہترین امت) بنایا گیا ہے ۔ ( مجمع الزوائد : 269/8) جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے: كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ " تم بہترین امت ہو۔ (سورۃ آل عمران: 110) مزید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے ایسی بہت سے چیزیں حلال کر دیں جن کے بارے میں دوسری امتوں پر سختی کی گئی تھی اور ہم پر کوئی تنگی نہیں رہنے دی۔ (مسند احمد: 393/5)

35 تحفظ قرآن کی ضمانت: تمام آسمانی کتابوں کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے اس دور کے نبی پر رکھا تھا جس کی وجہ سے وہ کتا بیں نبی کی رحلت کے بعد غیر محفوظ ہو گئیں اور تغیر و تبدل اور تحریف کا شکار ہو گئیں لیکن اللہ تعالی نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم کو قرآن مجید کی شکل میں ایک ایسا معجزہ عطا فرمایا کہ جو کبھی بھی تغیر و تبدل کا شکار نہیں ہو سکتا اس کی وجہ کہ اس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لے لیا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے : " إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ بے شک یہ (کتاب) ہم ہی نے اتاری ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں ۔ (سورۃ الحجر: 9)

36.                   جمعہ کے دن کی خصوصی عنایت: حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے جمعہ کا دن یہود کے لیے پیش کیا انہوں نے ہفتہ کو پسند کیا ... پھر یہی دن نصاری پر پیش کیا انہوں نے اتوار کو پسند کیا۔ پھر اللہ تعالی نے ہم پر پیش کیا اور ہمیں اسے قبول کرنے کی توفیق بھی نصیب کی ، تو اب دنوں کی ترتیب ایسے ہوگئی پہلے جمعہ پھر ہفتہ پھر اتوار ، اسی طرح یہ تو روز قیامت بھی ہمارے پیچھے ہوں گی ، ہم اگر چہ دنیا میں آخری امت ہیں مگر روز قیامت سب سے آگے ہوں گے۔“ (صحیح مسلم: 856)

37 روزہ میں وصال کی اجازت: "وصال"، مسلسل روزہ رکھنے کو کہتے ہیں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عام لوگوں کو منع فرمایا ہے تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! آپ تو خود رکھتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم جیسا نہیں ہوں مجھے کھلایا پلایا جاتا ہے۔“ (صحیح بخاری: 1961) ایک روایت میں یہ لفظ ہیں: میری اور تمہاری حالت میں فرق ہے میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا رہتا ہے۔“ (صحیح بخاری:1964)

38۔ آپ سے تبرک کا حصول: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام اشیاء سے تبرک حاصل کیا جاتا تھا ... مثلا صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضوء کے پانی کے قطروں کو بھی زمین پر نہ گرنے دیتے تھے بلکہ انھیں اپنے ہاتھوں پر اٹھا کر اپنے جسم پر مل لیا کرتے تھے۔ وغیرہ وغیرہ عام لوگوں کو بھی پسینہ آتا ہے میرے نبی محمدصلی اللہ علیہ وسلم ک بھی پسینہ آتا تھا مگر فرق یہ تھا صحابہ اور صحابیات اسے اپنے پاس محفوظ کر لیتے اور پھر اسے بطور تبرک استعمال کرتے۔ جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث موجود ہے۔ کہ آپ کے پسینہ سے خوشبو آتی تھی۔ مزید ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ : ”اے اللہ کے رسول! ہم اپنے بچوں کے لیے اس کی برکت کی امید رکھتے ہیں ( وہ بچوں کی دوائی میں ڈال کر حصول شفاعت کے لیے تبرک حاصل کرتی تھیں) تو آپ نے فرمایا: تو نے اچھا کیا۔ (صحیح مسلم: 2331)

﴿39 تحفہ کی اجازت: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ” جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھانا لایا جاتا تو آپ پوچھ لیتے کہ یہ کیا ہے؟ اگر کہا جاتا کہ ہدیہ ہے تو کھا لیتے ، اگر کہا جاتا کہ یہ صدقہ ہے تو آپ نہ کھاتے ۔ حیح مسلم

﴿40 صدقہ کی حرمت: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : صدقات لوگوں کی میل کچیل ہوتے ہیں یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال نہیں ۔“ (صحیح مسلم : 1072)