انتہائی کمال کا نبوی نسخہ
* اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ.
یہ صرف 12 الفاظ کی دعا ہے، مگر اس میں ساری دنیا اور آخرت کی بھلائی سمودی گئی ہے۔ ایک ایک لفظ کو کھول کر دیکھیے
: 1: اللهم يا الله! خاص اللہ کے نام سے شروع ، جو سارے ناموں کا سر چشمہ ہے۔ اس ایک لفظ میں کامل تو حید ہے۔
2: اكْفِنِی مجھے کافی کر دیں، بے نیاز کر دیں محفوظ رکھیں، میری حاجت روائی کر دیں۔
" میں تینوں طرح کی کفایت مانگی گئی:
1: کفایت رزق
( مال کی 2 کفایت نفس
( دل کی 3: کفایت
عقل (سوچ کی ) 3: بِحَلَالِ آپ کے حلال سے،
یعنی وہ رزق جو آپ کی طرف سے پاک ہو، برکت والا ہو، طیب ہو،، آپ کے حکم کے مطابق ہو۔ ۔ یہاں بندہ یہ کہہ رہا ہے: "اے اللہ ! میرا رزق آپ کے ہاتھ سے ہو، مخلوق کے ہاتھ سے نہیں۔“ آ 4: عَنْ حَرَامِكَ آپ کے حرام کردہ امور سے بے نیاز کر دیں۔ ۔ یہاں صرف " حرام نہ کھانے " کی دُعا نہیں، بلکہ تین اعلیٰ درجے مانگے گئے : 1: حرام کی مجبوری نہ ہو۔ 2: حرام کی طرف رغبت نہ ہو حرام کی طرف نظر بھی نہ جائے یہی وجہ ہے کہ امام غزالی رحمہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا: دو یہ دعا پڑھنے والا حرام سے اس طرح بچ جاتا ہے جیسے شیر سے بھاگتا ہے۔“ 5 : وَأَغْنِی اور مجھے غنی کر دیں، بے نیاز کر دیں۔
- غناد و طرح کا ہوتا ہے : 1 - غنای مال ( دولت ) 2 - غنای نفس ( دل کی بے نیازی) اس دعا میں دوسر اغناما نگا گیا، جو افضل ہے نبی نے فرمایا: لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثُرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ" (بخاری، مسلم) ترجمہ: مال و سامان کی کثرت کا نام مالداری نہیں بلکہ حقیقی مالداری تو دل کا (غنی) مالداری ہے۔ 6: بِفَضْلِک آپ کے فضل سے، نہ کہ میری محنت سے، نہ میری عقل سے، نہ میرے کاروبار سے یہ لفظ بندے کی عاجزی کی انتہا ہے۔ وہ کہہ رہا ہے: اے اللہ ! میں کچھ بھی نہیں ، سب آپ کا فضل ہے۔ 7 : عَمَّنْ سِوَاكَ آپ کے سوا سب سے۔ یعنی: لوگوں سے مانگنے سے بچالیں قرض لینے سے بچالیں چاپلوسی کرنے سے بچالیں کسی کے احسان تلے دبنے سے بچا لیں۔ دنیا کے کسی طاقتور کے آگے جھکنے سے بچائیں ۔ یہ عزت نفس کی آخری حد ہے۔
بڑے علماء کی تشریحات امام غزالی رحمہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: یہ دعا قناعت کا سب سے بڑا نسخہ ہے جو اسے پڑھتا ہے، اُس کا دل دنیا سے نکل جاتا ہے ۔ (احیاء العلوم ) علامہ ابن القیم رحمہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: یہ دعا توحید ربوبیت، توحید الوہیت اور توحید اسماء وصفات کا نچوڑ ہے۔ (عدۃ الصابرین ) الشيخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: جو اس دعا کو صبح و شام 7 بار پڑھے، اللہ اسے حلال سے مالا مال اور حرام سے پاک کر دیتا ہے۔“ مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: یہ دعا پڑھنے سے رزق میں ایسی برکت ہوتی ہے کہ تھوڑا بہت بہت نظر آنے لگتا ہے۔“
نتیجہ: یہ دعا کیوں بہت افضل ہے کیونکہ اس میں بندہ چار سب سے بڑی چیزوں سے نجات مانگ رہا ہے: 1: حرام کی مجبوری 2 حرام کی خواہش 3. مخلوق کی غلامی : دل کی تنگدستی ۔ اور چار سب سے بڑی چیزیں طلب کر رہا ہے: 1: حلال کی برکت 2 دل کی قناعت 3: اللہ کا فضل 4: عزت نفس ۔ اللہ تعالی ! ہمیں مسنون دعاؤں کا اہتمام نصیب فرمائے ۔ آمین