دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

غیرمسلم کی تعزیت جائزہے

سوال


کیا فرماتے ہیں، مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے متعلق کہ غیر مسلم کی موت پر (انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنا) اور ان سے تعزیت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر کوئی بندہ غلطی سے اشتہار میں تعزیتی الفاظ کہہ دے، اور جنازے کی اطلاع بھی دیدیں، تو اس سے مسلمان کے نکاح پر کوئی اثر ہوتا ہے یا نہ?

جواب

الجواب بعون الملک الوہاب
واضح رہے، کہ کسی بھی انسان کی موت کی خبر ملے چاہے مسلمان ہو، یا غیر مسلم، اس کو دیکھ کر اپنی موت کو یاد کرنا چاہئے، اور اس کے لیے بہتر الفاظ یہی ہیں: (انا للہ وانا الیہ راجعون) لہذا کافر کی موت پر بھی (انا للہ وانا الیہ راجعون) کہہ سکتے ہیں۔
کافر کی تعزیت بھی جائز ہے، لیکن تعزیت کے وقت میت کے لیے استغفار کے بجائے اس کے پسمندگان کو دوسرے الفاظ سے تسلی دی جائے، اور اس کی موت پر افسوس کا اظہار کیا جا سکتا ہے، اور مزید یہ کہ تعزیتی الفاظ کہنے سے مسلمان کے نکاح پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔

كما في مشكوة المصابيح: (جلد 1 ص 137 مط: قدیمی کتب خانہ):
عن انس رضى الله عنه قال كان غلام يهودى يخدم النبي ﷺ فمرض، فأتاه النبي يعوده، فقعد عند رأسه....
وفي الهداية: (ج 1 ص: 478 مط: رحمانية):
ولابأس بعيادة اليهودي والنصراني لانه نوع بر فى حقهم، وما نهينا عن ذلك.
وفي الهندية: (ج: 5 ص: 348 مط: رشيدية):
ولا بأس بعيادة اليهودي والنصراني، وفي المجوسى اختلاف "كذا في التهذيب" ويجوز عيادة الذمي كذا في التبيين... واذامات الكافر، قال لوالده، او قريبه، في تعزيته أخلف الله علیک خیرا منه، وأصلحك: ای اصلحك بالإسلام.

وايضا في الهندية (ج: 1 ص: 350 مط: رشيدية):
ويقال في تعزية المسلم بالكافر اعظم الله اجرك واحسن عزاك، وفي تعزية الكافر بالمسلم احسن الله عزاک وغفر لميتك، ولا يقال اعظم الله اجرك، وفي تعزية الكافر بالكافر اخلف الله علیک و لا نقص عددک.

فتویٰ نمبر: 25/5

جواب دہندہ: داراالافتاءجامعہ فرقانیہ

دارالافتاء: دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

پڑھا گیا: 22 بار