دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

اہل میت کی طرف سےکھانےکاانتظام کرنا

سوال

 کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درج ذیل مسائل کے بارے میں(1)کہ میت کے گھر کھانا پکنا چاہیے یا اپنے پیسوں سے باہر سے منگوا سکتے ہیں بہتر کیا ہے؟ (2) نیز کتنے دن کھانا بنایا جائے؟ (3) میت کے گھر کا پکا ہوا کھانا قریبی رشتہ دار کھا سکتے ہیں یا نہیں؟ (4) اگر رشتہ دار بر وقت موجود ہوں اور کھانا لگ رہا ہو یا لگ چکا ہو کھا لینا بہتر ہے یا اٹھ کر چلے جانا؟ المستفتی: محمد دانیال

جواب

 الجواب بعون الملک الوہاب

 (1) واضح رہے کہ ایسے مواقع پر شریعتِ مطہرہ نے اہلِ میت کی طرف سے تین دن تک کھانے وغیرہ کے انتظام کو منع کیا ہے، بلکہ دیگر دوست احباب اور دور کے رشتہ داروں کو حکم ہے کہ وہ میت کے لئے کھانے وغیرہ کا انتظام کریں۔ میت کے گھر لوگوں کے اجتماع اور گھر والوں کی طرف سے کھانے وغیرہ کے انتظام کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نوحہ تصور کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: "كنا نعد الاجتماع إلى اهل البيت وصنعهم الطعام من النياحة"۔ لیکن اگر اہل ميت گھر پر اپنے لئے کھانا پکائیں یا باہر سے منگوا کر کھائیں تو دونوں صورتیں جائز ہیں۔ (2) نیز خود اہل میت کی طرف سے کھانے کے انتظام کرنے میں کئی مفاسد ہیں، بسا اوقات میت کے ورثاء میں نابالغ یتیم بچے ہوتے ہیں ان کا مال کھایا جاتا ہے جس کی شرعاً ہرگز اجازت نہیں، اس لئے ایسے مواقع پر کھانے وغیرہ سے احتراز کرنا لازم ہے، ہاں اگر ورثاء میں کوئی نا بالغ نہ ہو اور تمام ورثاء اپنی رضامندی سے فقراء اور مساکین کے لئے کھانا تیار کریں تو یہ باعثِ اجر و ثواب ہے اور چاہئے کہ تعزیت کے ایام گزرنے کے بعد ایصالِ ثواب کریں۔ (3) واضح رہے کہ اہل میت کے لئے جو کھانے کا انتظام کیا جاتا ہے تو اس میں عام تعزیت کے لئے آنے والے رشتہ داروں کو اس بات کا خصوصی خیال رکھنا چاہئے کہ کھانے وغیرہ کے معاملہ میں انتظام کرنے والوں پر بوجھ نہ بنیں، یہ بات اکثر دیکھی جاتی ہے بعض رشتہ دار کئی کئی دنوں تک اہل میت کے ہاں ٹھہرے رہتے ہیں واپسی کا نام تک نہیں لیتے جس سے انتظام کرنے والوں کو تکلیف ہوتی ہے یہ مروت کے خلاف اور اہل میت کے لئے طبعی طور پر پریشانی والی بات ہے۔ (4) لیکن اگر میت کے رشتہ دار بر وقت موجود ہوں اور کھانا لگ جائے تو کھا لینے میں کوئی قباحت نہیں۔

 لما في مشكواة المصابيح (ص: 255 مكتبة قديمي كتب خانه): 

عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه»۔ رواه البيهقي في شعب الإيمان. (كتاب الغصب والعارية، الفصل الثاني)۔ 

كما في الدر المختار مع الشامي (ج 3 ص: 175) مكتبة رشيدية: 

(قوله وباتخاذ طعام لهم) قال في الفتح ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم، لقوله - صلى الله عليه وسلم - «اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد جاءهم ما يشغلهم» عن جرير بن عبد الله قال "كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة"۔ (مطلب في الثواب على المصيبة)۔

 وفي البحر الرائق (ج: 2، ص: 337، مط: رشيدية):

 ولا بأس بالجلوس إليها ثلاثا من غير ارتكاب محظور من فرش البسط والاطعمة من أهل البيت لانها تتخذ عند السرور ولا بأس بأن يتخذ لاهل الميت طعام اهـ۔ وفي الخانية وإن اتخذ ولي الميت طعاما للفقراء كان حسنا إذا كانوا بالغين، وإن كان في الورثة صغير لم يتخذ ذلك من التركة۔

 وفي حاشية الطحطاوي (ص: 617، 618، مط: قديمي كتب خانة): 

(كتاب الجنائز، فصل السلطان أحق بصلاته)۔ وإن اتخذ ولي الميت طعاما للفقراء كان حسنا إلا أن يكون في الورثة صغير فلا يتخذ ذلك من التركة۔ (كتاب الصلاة، فصل في حملها ودفنها)۔

وفي الهندية (ج: 9 ص: 153) مط: رشيدية:

 ولا يباح إتخاذ الضيافة ثلاثة ايام في ايام المصيبة وإذا اتخذ لا بأس بالأكل منه، كذا في خزانة المفتين۔ (كتاب الحظر والإباحة، الباب الثاني عشر في الهدايا والضیافات)

 

فتویٰ نمبر: 76/11

جواب دہندہ: داراالافتاءجامعہ فرقانیہ

دارالافتاء: دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

پڑھا گیا: 5 بار