کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قبر پر دفن کے بعد تلقین کرنا کیسا ہے ؟ اور کیا تلقین سراً کرنا صحیح ہے یا جہراً؟، کیونکہ ہمارے ہاں لوگ قبر پر دو آدمی کھڑے کرتے ہیں ایک میت کے سر کی جانب اور ایک پاؤں کی جانب اور وہ دونوں جہراً قراءت کرتے ہیں ، کیا ایسے کرنا شرعاً جائز ہے۔ بینوا توجروا
قبر پر تلقین کرنے کا حکم
سوال
جواب
الجواب بعون الملک الوہاب
واضح رہے کہ قبر پر دفن کرنے کے بعد تلقین کرنا یعنی قبر کے سرہانے سورۃ بقرۃ کی ابتدائی آیات "مفلحون" تک اور پاؤں کی جانب سورۃ بقرہ کی آخری آیات "اٰمن الرسول" سے ختم سورۃ بقرۃ تک پڑھنا مستحب ہے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں تلقین جہراً کرنا ہی بہتر ہے۔
كما في مشكوة المصابيح (ج 1 ص 149) مط، قديمي كتب خانه:
وعن عبد الله بن عمر قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «إذا مات أحدكم فلا تحبسوه وأسرعوا به إلى قبره وليقرأ عند رأسه فاتحة البقرة وعند رجليه بخاتمة البقرة» .
(كتاب الجنائز ، الفصل الثالث ، باب البكاء على الميت.)
سنن أبي داؤود ( ج 2 ص : 105): مط، رحمانیه:
عن عثمان بن عفان، قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم - إذا فرغ من دفن الميت وقف عليه فقال: "استغفروا لأخیکم وسلوا له بالتثبيت؛ فإنه الآن يسأل.
(باب الإستغفار عند القبر للميت في وقت الإنصراف).
كما في رد المحتار (ج 3 ص 179) مط، رشيدية :
وكان ابن عمر يستحب أن يقرأ على القبر بعد الدفن أول سورة البقرة وخاتمتها ..... فقد ثبت أنه – عليه الصلاة والسلام - قرأ أول سورة البقرة عند رأس ميت وآخرها عند رجليه»(كتاب الصلاة باب صلاة الجنائز، مطلب في زيارة القبور).
فتویٰ نمبر: 72/11
جواب دہندہ: داراالافتاءجامعہ فرقانیہ
دارالافتاء: دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی
پڑھا گیا: 8 بار