دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

پیشاب کے قطروں کے بعد کپڑوں کی پاکی کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی جو اپنے گھر سے دور کہیں کام کرتا ہے سردیوں میں پیشاب کی زور سے اکثر قطرے نکل آتے ہیں، ویسے اسے بیماری نہیں ہے ، نماز بھی پڑھنی ہے تو وہ انہیں کپڑوں کے ساتھ نماز پڑھے گا یا نہیں ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً ومسلماً:

 واضح رہے کہ صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص معذور نہیں ہے لہذا اس کے لئے ان کپڑوں کے ساتھ نماز پڑھنا درست نہیں ، ضروری ہے کہ وہ اس پیشاب کو دھو لے یا دوسرے صاف کپڑے پہن کر نماز پڑھے ، البتہ اس مشقت سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کام کے لئے مخصوص کپڑے رکھے اور کام کے وقت اپنے صاف کپڑے شاپر میں رکھ لے اور کام کے کپڑے پہن کر کام کرے اور نماز کے وقت صاف کپڑے پہن کر نماز پڑھے۔

 كما في القرآن المجيد: (سورۃالمدثر رقم الآية: 4) :

وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ 

وفي جامع الترمذى: (ج 1 / ص 21 / مط رحمانیہ): 

عن ابن عباس - رضی الله عنهما - ان النبي ﷺ مر على قبرين فقال انهما يعذبان و ما يعذبان في كبير اما هذا فكان لا يستنزه من بوله و اما هذا فكان يمشى بالنميمة.(ابواب الطهارة باب التشديد في البول).

 وفي الهداية: (ج 1 / ص 68،69 / مط رحمانیہ): 

تطهير النجاسة واجب من بدن المصلى وثوبه والمكان الذى يصلى عليه ... فان اصابه بول فيبس لم يجز حتى يغسله.(كتاب الطهارات باب الانجاس وتطهيرها). 

وفي الدر المختار مع رد المحتار: (ج 1 / ص 560 / مط رشیدیہ): 

(يجوز رفع نجاسة حقيقة عن محلها) ولو إناء أو مأكولا علم محلها أو لا (بماء ولو مستعملا) به يفتي (وبكل مائع طاهر قالع) ... قوله: (يجوز) عبر بالجواز لأنه أطلق في قوله: "عن محلها" ولم يقيده ببدن المصلى وثوبه ومکانه كما قيده في الهداية فعبر بالوجوب. (كتاب الطهارات باب الانجاس). 

وفي مجمع الأنهر: (ج 1 / ص 86 / مط المنار):

 يطهر بدن المصلى وثوبه من النجس الحقيقي بالماء وبكل مائع مزيل كالخل وماء الورد۔ (كتاب الطهارة باب الانجاس)۔

 

فتویٰ نمبر: : 12/66

دارالافتاء: دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

پڑھا گیا: 8 بار