دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

بواسیرکاخون نکلنےکی صورت میں وضواور کپڑوں کی پاکی کاحکم

سوال

 کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی کو بواسیر کی بیماری ہے، ہر وقت خون کے دھبے کپڑوں پر لگتے رہتے ہیں، اس کے لیے وضو اور کپڑوں کا کیا حکم ہے؟ آیا ہر نماز کے لیے وضو کرے، اور ہر نماز کے لیے کپڑے تبدیل کرے یا صرف دھبے والی جگہ دھو ڈالے؟ بالفرض اگر وہ کپڑے کو دھو کر نماز پڑھے تو نماز کے دوران مزید دھبے لگنے کا غالب گمان ہے، اس پریشانی کے حل کے لیے رہنمائی فرمائیں۔ 

جواب

الجواب وهو الموفق للحق والصواب:

 صورتِ مسئولہ میں یہ شخص معذور کے حکم میں ہے۔ اور شرعاً معذور اس شخص کو کہا جاتا ہے جس میں نقضِ وضو (وضو توڑنے) کا سبب اس تسلسل سے پایا جائے کہ اسے کسی ایک نماز کے پورے وقت میں طہارت کے ساتھ فرض نماز ادا کرنے کا موقع بھی نہ مل سکے۔ اگر بیماری کی یہ کیفیت اتنا عرصہ باقی نہ رہے تو مریض معذور نہ رہے گا اور معذور کا حکم یہ ہے کہ ہر فرض نماز کے وقت میں ایک وضو اس کے لیے کافی ہو گا۔ اس وضو کے ذریعے اس وقت کے اندر جتنی چاہیں نمازیں پڑھ سکتے ہیں، اگرچہ خون جاری ہو، اور وقت نکل جانے پر وضو ٹوٹ جائے گا۔ اور اسی طرح کپڑوں کی پاکی کا حکم یہ ہے کہ اگر اس کو یقین ہو کہ کپڑے دھونے کے بعد نماز سے فارغ ہونے سے پہلے کپڑے دوبارہ ناپاک نہیں ہوں گے، تو کپڑے کے اس ناپاک حصے کو دھونا ضروری ہے۔ اور اگر نماز سے فارغ ہونے سے پہلے دوبارہ ناپاک ہونے کا یقین (یا غالب گمان) ہو تو اس کا دھونا ضروری نہیں ہے، اس کپڑے میں وہ نماز ادا کر سکتا ہے، کیونکہ شریعت میں اس عذر کا اعتبار کیا گیا ہے۔ 

كما في سنن ابن ماجه: (ص: 45) نور محمد، كارخانه تجارت كتب آرام باغ، كراتشي:

 عن عائشة قالت: جاءت فاطمة بنت أبي حبيش إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله، إني امرأة استحاض، فلا أطهر، أفأدع الصلاة؟ قال: «لا، إنما ذلك عرق وليس بالحيضة، اجتنبى الصلاة أيام محيضك، ثم اغتسلي وتوضئي لكل صلاة، وإن قطر الدم على الحصير». (باب ما جاء في المستحاضة التي قد عدت أيام أقرائها قبل أن يستمر بها الدم) 

وفي الدر مع الرد: (ج 1 ص: 553) مكتبة رشيدية: 

(وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمناً يتوضأ ويصلي فيه خالياً عن الحدث (ولو حكماً) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم وهذا شرط العذر في حق الابتداء، وفي حق (البقاء يكفي وجوده في جزء من الوقت ولو مرة... وفي حق الزوال يشترط استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل. (كتاب الحيض، مطلب: أحكام المعذور) 

وفي الهندية: (ج: 1 ص: 74) مكتبة رشيدية: 

المستحاضة ومن سلس البول أو استطلاق البطن... يتوضئون لوقت كل صلاة ويصلون بذلك الوضوء في الوقت ما شاءوا من الفرائض والنوافل.إذا كان به جرح سائل وقد شد عليه خرقة فأصابها الدم أكثر من قدر الدرهم أو أصاب ثوبه إن كان بحال لو غسله يتنجس ثانياً قبل الفراغ من الصلاة جاز أن لا يغسله وصلى قبل أن يغسله وإلا فلا هذا هو المختار هكذا في المضمرات تمارة.رجل رعف أو سال عن جرحه الدم ينتظر آخر الوقت فإن لم ينقطع توضأ وصلى قبل أن يغسله قبل خروج الوقت كذا في الذخيرة. (كتاب الطهارة، باب: ومما يتصل بذلك أحكام المعذور)

 

فتویٰ نمبر: 97/9

دارالافتاء: دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

پڑھا گیا: 17 بار