کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسجد کی بڑی ٹینکی میں کافی دنوں سے پانی نہیں آرہا تھا، اور ٹینکی میں چوہا گرا ہوا تھا، معلوم نہیں کہ کب سے گرا ہوا تھا، اور چوہا پھولا ہوا تھا، اور بدبو بھی اس سے آرہی تھی، تو بچوں نے چوہے کو نکال کر ٹینکی میں پانی بھر دیا، اور بہہ گیا، کیا یہ بہنا کافی ہے، یا ٹینکی خالی کر دی جائے، اور از سر نو پانی سے بھر دیا جائے، اس پانی اور نماز کا کیا حکم ہے، اور کتنے دن کی نمازیں ہم لوٹادیں؟
مسجدکی ٹینکی میں چوہاگرنےکاحکم
سوال
جواب
الجواب بعون الملك الوهاب
واضح رہے کہ ٹینکی سے چوہا نکالنے کے بعد ٹینکی میں پانی بھرنے اور تھوڑا بہت پانی بہہ جانے سے ٹینکی کا پانی پاک شمار ہوگا، لہذا صورتِ مسئولہ میں جب مرے ہوئے چوہے کے گرنے کا وقت معلوم نہیں ہے، اب جس وقت نکالا گیا ہے، اس وقت پھولا ہوا تھا، تو نکالنے کے وقت سے تین دن تین رات قبل گرا ہوا تسلیم کیا جائے گا، اور اسی مدت کی نمازیں لوٹائی جائیں گی، اور باقی جن چیزوں میں اس پانی کو استعمال کیا ہو، تو وہ چیزیں بھی دھوئیں جائیں گی۔
وفي المحيط البرهاني (ج: 1، ص: 250، مط إدارة القرآن والعلوم الإسلامية):
حوض صغير تنجس ماؤه فدخل الماء الطاهر فيه من جانب وسال ماء الحوض من جانب آخر كان الفقيه أبو جعفر رحمه الله يقول: كما سال ماء الحوض من جانب الآخر يحكم بطهارة الحوض، وهو اختيار الصدر الشهيد رحمه الله. (كتاب الطهارة، الفصل الرابع في المياه).
وفي الدر المختار مع الرد (ج: 1، ص: 417، 420، مط: مكتبة رشيدية):
(ويحكم بنجاستها) مغلظة من وقت الوقوع إن علم، وإلا فمذ يوم وليلة إن لم ينتفخ ولم يتفسخ). ومذ ثلاثة أيام بلياليها إن انتفخ أو تفسخ استحسانا. (كتاب الطهارة، باب المياه، مطلب مهم في تعريف الاستحسان).
وفي الفتاوى الهندية (ج: 1، ص 36، مط: مكتبة رشيدية):
وإذا وجد في البئر فأرة أو غيرها ولا يدرى متى وقعت ولم تنتفخ أعادوا صلاة يوم وليلة إذا كانوا توضئوا منها وغسلوا كل شيء أصابه ماؤها وإن كانت قد انتفخت أو تفسخت أعادوا صلاة ثلاثة أيام ولياليها. (كتاب الطهارة، الباب الثالث في المياه).
وفي التاتار خانية (ج 1 ص 133-134، مط: مكتبة قديمي كتب خانه):
حوض صغير تنجس ماؤه فدخل الماء الطاهر فيه من جانب وسال ماء الحوض من جانب آخر، كان الشيخ الإمام الفقيه أبو جعفر رحمه الله يقول: لما سال ماء الحوض من جانب آخر يحكم بطهارة الحوض، وهو اختيار الصدر الشهيد رحمه الله. (كتاب الطهارة، الفصل الرابع في المياه التي يجوز الوضوء بها والتي لا يجوز الوضوء بها، نوع آخر في ماء الحياض والغدران والعيون).
فتویٰ نمبر: 3/12
دارالافتاء: دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی
پڑھا گیا: 12 بار