دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

بور کےپائپ میں چوہاگرنےکاحکم

سوال

اگر پانی کے کنواں (بور) کے پائپ میں چوہا گر جائے اور اس کو نکالنا مشکل ہو تو پانی کس طرح پاک کیا جائے گا؟

جواب

الجواب حامداومصلیاومسلما

 واضح رہے کہ اگر کنویں میں چوہا یا چڑیا وغیرہ گر جائے اور کنویں سے نکالنا کسی بھی صورت میں ممکن نہ ہو تو اتنی مدت تک کنویں کو استعمال نہ کیا جائے جب تک ظن غالب نہ ہو جائے کہ گرا ہوا چوہا مٹی ہو چکا ہے، اتنی مدت گزرنے کے بعد کنویں کا سارا پانی نکال کر کنواں پاک کیا جائے، بعض فقہاء کرام کا قول ہے کہ چھ ماہ تک انتظار کیا جائے اس لئے کہ ظن غالب یہ ہے کہ چھ ماہ میں گرا ہوا چوہا مٹی میں مل کر راکھ ہو چکا ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں بور کے کنویں سے جب کسی بھی صورت میں چوہا نکالنے کا کوئی طریقہ نہ ہو تو بورنگ والی مشین کی بوکی کنویں میں مار کر چوہے کو ختم کیا جائے۔ اس کے بعد کنویں کا پانی اس وقت تک استعمال کرنا درست نہیں ہے جب تک اس کے گل سڑ کر مٹی اور گارا ہونے کا یقین نہ ہو جائے۔

 لما فی رد المحتار:(1/409:مط:رحمانیہ):

 (قولہ متنجسۃ) ... الی ان لا بد من اخراج عین النجاسۃ کلہم میتۃ وخنزیر قلت فلو تعذر ایضاً ففی القہستانی عن الجواہر لو وقع عصفور فیہا فعجزوا عن اخراجہ فیہا فنجس فتترک مدۃ یعلم انہ استحال وصار حماۃ وقیل مدۃ ستۃ اشہر.(رد المحتار کتاب الطہارۃ فصل فی البئر).

 

فتویٰ نمبر: 52/16

دارالافتاء: دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

پڑھا گیا: 8 بار