دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

ٹھیک ہےمیں نہیں ہوں مسلمان کہنےکاحکم

سوال

السلام علیکم! میرا نام نوشین ہے، میرے شوہر کا نام محمد صغیر ہے، میری شادی کے 15 سال ہو چکے ہیں، اللہ تعالیٰ کے کرم سے 2 بچے ہیں۔ گذشتہ رات میرے شوہر کے ساتھ کسی بات کو لے کر بحث و مباحثہ ہو رہا تھا، انہوں نے مجھے کہا کہ "تم بااخلاق و باکردار ہو جاؤ"۔ الحمد للہ میں اس کی پابند ہوں۔ پر ان کے یہ الفاظ سن کر مجھے غصہ آ گیا۔ میں نے جواباً کہا: "اچھا میں بااخلاق و باکردار مزید نہیں ہو سکتی"، تو انہوں نے کہا کہ "اگر نہیں ہو سکتی تو تم مسلمان نہیں"۔ میں نے کہا: "ٹھیک ہے میں نہیں ہوں مسلمان"۔

اب ان کا کہنا ہے کہ تم مسلمان نہیں تو میرے ساتھ تمہارا کوئی رشتہ نہیں رہا۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں دائرہ اسلام سے خارج ہو گئی؟
 کیا میرا نکاح ختم ہو گیا؟

برائے مہربانی میری راہنمائی کی جائے قرآن و سنت کے مطابق۔ میں نے رات سے بہت بار اس بات کے لیے استغفار بھی کیا اور اپنے اس عمل سے شرمندہ بھی ہوں۔
مستفتیہ: نوشین اکبر

جواب

الجواب بعون الملک الوہاب:
 واضح رہے کہ صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ جملے "ٹھیک ہے میں نہیں ہوں مسلمان" سے حقیقت (یعنی اسلام کو چھوڑنا) مراد تھی، تو چونکہ یہ کفریہ جملہ ہے، اس لیے تجدیدِ (نیا) ایمان اور ساتھ رہنے کے لیے تجدیدِ نکاح ضروری ہے۔ اور اگر مذکورہ بالا جملے سے حقیقت مراد نہیں تھی، تو پھر اس سے کفر تو لازم نہیں آتا، لیکن احتیاطاً تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح کر لیا جائے، اور ساتھ میں دونوں میاں بیوی توبہ و استغفار کا بھی اہتمام کریں۔

وفی الفتاویٰ الہندیۃ (279/2) دار الفکر:
رجل ضرب امرأة فقالت المرأة: لست بمسلم فقال الرجل: هب أني لست بمسلم، قال الشيخ الإمام أبو بكر محمد بن الفضل - رحمه الله تعالى - لا يصير كافراً بذلك، فقد حكي عن بعض أصحابنا: أن رجلاً لو قيل له ألست بمسلم فقال: لا، لا يكون ذلك كفراً لأن قول الناس ليس بمسلم معناه ان افعاله ليست من افعال المسلمين -
وقال الشيخ الامام الزاهد رحمه الله تعالى اذا لم يكن ذلك كفراً عند بعض الناس فقوله هب اني لست بمسلم ابعد من ذلك. (باب ما يكون كفراً من المسلم وما لا يكون)۔

فتویٰ نمبر: 29/16

دارالافتاء: دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

پڑھا گیا: 31 بار