دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

ماہِ محرم میں سبیل لگانے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ماہ محرم میں روافض کے علاوہ بعض لوگ سبیل دیتے ہیں کیا یہ سبیل پینا جائز ہے یا نہیں؟


جواب

واضح رہے کہ جو لوگ سبیل غیر اللہ کے نام پر ثواب کی نیت سے دیتے ہوں تو وہ سبیل بالاتفاق ناجائز ہے البتہ ایصال ثواب کیلئے یا محض رسم پرستی کیلئے دیں تو اگرچہ اس درجے کا گناہ تو نہیں ہے لیکن تشبہ روافض کی وجہ سے بھی ممنوع اور قابل الترک ہے لہذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

لما في القرآن العظيم: (سورة الانعام، رقم الآيه 136):

وَجَعَلُوا لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُوا هَذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَذَا لِشُرَكَائِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَكَائِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى اللَّهِ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَى شُرَكَائِهِمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ .

وفي الدر المختار: (ج، 3/ص، 491/مط، رحمانیه):

واعلم أن النذر الذي يقع للاموات من اكثر العوام وما يؤخذ من الدراهم والشمع والزيت ونحوها الى ضرائح الأولياء الكرام تقربا اليهم فهو بالاجماع حرام ما لم يقصد وصرفها الفقراء الانام.(كتاب الصوم مطلب في النذر الذي يقع للاموات).

وفي حاشيه ابن عابدين : (ج، 3/ص، 491/مط رحمانیه):

منها أنه نذر لمخلوق والنذر للمخلوق لا يجوز لأنه عبادة والعبادة لا تكون لمخلوق.

(كتاب الصوم مطلب في النذر الذى يقع للاموات من اكثر العوام من شمع او زيت او نحوه).

وفي خلاصة الفتاوى: (ج 2 / ص 261/مط رشیدیه):

النذر لغير الله حرام . (كتاب الصوم الفصل الرابع في النذر).

 

فتویٰ نمبر: 40/13

جواب دہندہ: داراالافتاءجامعہ فرقانیہ

دارالافتاء: دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

پڑھا گیا: 10 بار