الجواب حامداً ومصلياً ومسلماً:
شریعتِ مطہرہ نے کسی بھی شخص کی وفات کے بعد اس کے ساتھ اچھا سلوک رکھنے اور اس کو فائدہ پہنچانے کے لیے ایصالِ ثواب کا بہترین راستہ بتلایا ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ فوری عمل کر کے ثواب پہنچایا جائے، بلکہ نیت کا اعتبار ہوگا، عمل سے پہلے ثواب پہنچانے کی نیت کی تب بھی ثواب پہنچ جائے گا، اور اگر عمل کے بعد ثواب پہنچانے کی نیت کی تب بھی ثواب پہنچ جائے گا، اگرچہ نیت کتنی ہی تاخیر سے کیوں نہ ہو۔
(كما في إعلاء السنان: ج 8 ص 343 ادارة القرآن والعلوم الإسلامية):
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ دَخَلَ الْمَقَابِرَ ثُمَّ قَرَأَ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَ (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) وَ (أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ) ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي قَدْ جَعَلْتُ ثَوَابَ مَا قَرَأْتُ مِنْ كَلَامِكَ لِأَهْلِ الْمَقَابِرِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ، كَانُوا شُفَعَاءَ لَهُ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى.(باب استحباب زيارة القبور عموماً).
(وفي الشامية: ج 3 ص 180 مطبع رشيدية كوئٹہ):
الأَفْضَلُ لِمَنْ يَتَصَدَّقُ نَفْلاً أَنْ يَنْوِيَ لِجَمِيعِ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ لِأَنَّهَا تَصِلُ إِلَيْهِمْ وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ شَيْءٌ.(كتاب الصلوة، مطلب في القرأة للميت وإهداء ثوابها له).
(وفي البحر الرائق، ج 3، ص 106، مطبع رشيدية كوئٹہ):
وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ لَا فَرْقَ بَيْنَ أَنْ يَنْوِيَ بِهِ عِنْدَ الْفِعْلِ لِغَيْرِهِ أَوْ يَفْعَلَهُ لِنَفْسِهِ، ثُمَّ بَعْدَ ذٰلِكَ يَجْعَلُ ثَوَابَهُ لِغَيْرِهِ لِإِطْلَاقِ كَلَامِهِ.(كتاب الحج، باب الحج عن الغير).