مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ لوگ یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فرماتے تھے کہ "تَعَلَّمْنَا الْإِيْمَانَ ثُمَّ الْقُرْآنَ" یعنی ہم نے قرآن سے پہلے ایمان سیکھتے تھے، تو یہ بات کس حد تک صحیح ہے۔
تَعَلَّمْنَا الْإِيْمَانَ ثُمَّ الْقُرْآنَ" کی تخریج
سوال
جواب
الجواب وبالله التوفيق
مذکورہ روایت امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے اپنی سنن میں جندب بن عبد الله البجلی رضی اللہ عنہ سے صحیح سند کے ساتھ نقل کی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآنِ کریم کی تلاوت محض رسماً نہیں ہونی چاہیے بلکہ کامل ایمان ویقین کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کرنی چاہیے، یعنی جب بھی تلاوت کا صحیح نفع ظاہر ہو گا اور ایمان کی کیفیت میں اضافہ ہو گا ان شاء اللہ۔ (ازکتاب النوازل 2/318)۔
كما في سنن ابن ماجه (ص: 101 رقم الحديث: 61) مكتبه رحمانيه:
عن جندب بن عبد الله، قال: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم ونحن فتيان حزاورة، فتعلمنا الإيمان قبل أن نتعلم القرآن، ثم تعلمنا القرآن فازددنا به إيمانا. (المقدمة، باب في الإيمان).
وقال البوصيري في الزوائد: هذا إسناد صحيح، رجاله ثقات. مصباح الزجاجة في زوائد ابن ماجه (ج: 1 ص: 12).
فتویٰ نمبر: 81/11
جواب دہندہ: داراالافتاءجامعہ فرقانیہ
دارالافتاء: دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی
پڑھا گیا: 9 بار