دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

غیرمقلدرشتہ داروں سے تعلق رکھنےکاحکم

سوال


سوال:
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا غیر مقلد رشتہ داروں کے ساتھ تعلقات رکھنا جائز ہیں ؟ کیونکہ ہمارے قریبی رشتہ دار غیر مقلد ہیں، ان کے ساتھ میل جول سے ہمارے اندر بھی ان کے اثرات منتقل ہو رہے ہیں۔


جواب

الجواب بعون الملک الوہاب

واضح رہے کہ غیر مقلد رشتہ داروں کے ساتھ میل جول رکھنا جائز ہے، اور ان کے ساتھ کھانا پینا بھی جائز ہے، ان کے غم اور خوشی میں شریک ہو سکتے ہیں، اس لیے کہ صلہ رحمی کو توڑنا جائز نہیں ہے، اور جو غیر مقلد تقلید کو شرک کہیں اور ائمہ اربعہ پر طعن و تشنیع کریں اور ان کے ساتھ بغض اور عناد رکھیں، تو ایسے غالی قسم کے لوگوں کے ساتھ زیادہ میل جول نہ رکھنا بہتر ہے، اگر ان کے اثرات پڑ رہے ہیں، تو تعلقات محدود کر لیے جائیں۔

لما في القرآن الكريم: (سورة آل عمران الآية: 103):

واعتصموا بحبل الله جميعا ولا تفرقوا.

وفيه أيضا (سورة الانفال: 46):

ولا تنازعوا فتفشلوا و تذهب ريحكم.

وفي الترمذي (ج: 2 / ص: 13) مط: قدیمی کتب خانہ:

عن عبد الله بن عمرو عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ليس الواصل بالمكافي، ولكن الواصل الذي إذا انقطعت رحمه وصلها.(ابواب البر والصلة، باب ماجاء في قطيعة الرحم).

وفي الترمذي: (ج: 2 / ص: 45) مط: سعيد:

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ... و لعن آخر هذه الأمة أولها فليرتقبوا عند ذلك ريحا حمراء....
(ابواب الفتن، باب ماجاء في أشراط الساعة).

فتویٰ نمبر: 60/2

جواب دہندہ: داراالافتاءجامعہ فرقانیہ

دارالافتاء: دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

پڑھا گیا: 3 بار