دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

اسقاط حمل کے بعد آنے والے خون کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت کا تقریبا دو ماہ کا حمل ضائع ہوا ہے اور تین دن تک خون مستقل جاری رہا مگر تین دن کے بعد بالکل رک گیا ہے اب اس عورت کو پاک ہو جانا چاہئے یا چالیس (40) دن شرط ہے؟

جواب

الجواب حامداومصلیاومسلما:

صورتِ مسئولہ میں اگر حمل کے اعضاء بن چکے تھے تو اس کے بعد آنے والا خون نفاس ہے، اور اگر حمل کے اعضاء نہیں بنے تو آنے والا خون حیض ہے، اب جبکہ تین دن بعد خون بند ہو گیا ہے، تو عورت کو پاک ہو جانا چاہیے چالیس دن کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔

 کما فی الدر المختار مع رد المحتار (ج: 1، ص: 551، مکتبہ رشیدیہ): 

"فإن لم يظهر له شيء فليس بشيء، والمرئي حيض إن دام ثلاثاً وتقدمه طهر تام وإلا استحاضة أي إن لم يدم ثلاثاً وتقدمه طهر تام، أو دام ثلاثاً ولم يتقدمه طهر تام، أو لم يدم ثلاثاً ولا تقدمه طهر تام." (کتاب الطهارة، مطلب في أحوال السقط وأحكامه).

لما فی الهندية: (ج: 1، ص: 69) مکتبہ رشیدیہ:

النفاس: وهو دم يعقب الولادة... أقل النفاس ما يوجد ولو ساعة وعليه الفتوى وأکثره أربعون." (کتاب الطهارة: الفصل الثاني في النفاس). 

 وفي حاشية الطحطاوي (ص: 140) قدیمی کتب خانہ:

 والاستحاضة دم نقص عن ثلاثة أيام أو زاد على عشرة أيام في الحيض؛ لما رويناه، ودم زاد على أربعين في النفاس أو زاد على عادتها."(کتاب الطهارة، باب الحيض والنفاس والاستحاضة).

فتویٰ نمبر: 86/11

دارالافتاء: دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

پڑھا گیا: 16 بار