کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت نے ماہواری کی بیماری سے پاک ہو کر غسل کیا، اور دس دن بعد پھر بیماری شروع ہو گئی، یعنی پندرہ دن سے پہلے بیماری کا خون شروع ہو گیا، تو اب یہ عورت کیا کرے گی؟
دو حیضوں کے درمیان پندرہ دن کی پاکی ضروری ہے
سوال
جواب
الجواب بعون الملک الوہاب:
واضح رہے کہ ایک ماہواری کا خون ختم ہونے اور دوسرا شروع ہونے کے درمیان شریعت میں پندرہ دن (پاکی) ضروری ہے، مذکورہ صورت میں جب عورت کا خون پندرہ دن سے پہلے آیا تو یہ ماہواری کا خون نہیں ہے، بلکہ استحاضہ (بیماری) کا خون ہے، لہذا عورت کے لیے اس حالت میں نماز پڑھنا جائز ہے، اور روزہ رکھنا بھی جائز ہے، البتہ ہر نماز کے لیے وضو کرنا ضروری ہے۔
كما في المختصر للقدوري (ص: 24، مط مكتبة الحرمين):
وأقل الطهر خمسة عشر يوما ولا غاية لأكثره. (كتاب الطهارة، باب الحيض)."
و في الفتاوى الهندية (ج 1 ص: 70، مط: مكتبة رشيدية):
لو رأت الدم بعد أكثر الحيض والنفاس في أقل مدة الطهر فما رأت بعد الأكثر إن كانت مبتدأة وبعد العادة إن كانت معتادة استحاضة وكذا ما نقص عن أقل الحيض. (كتاب الطهارة، الباب السادس في الدماء المختصة بالنساء، الفصل الثالث في الاستحاضة)."
وفي بدائع الصنائع (ج 1، ص: 163، مط: مكتبة رشيدية):
فالمستحاضة حكمها حکم الطاهرات غير أنها تتوضأ لوقت كل صلاة. (كتاب الطهارة، فصل في تفسير الحيض والنفاس والاستحاضة)."
وفي الدر المختار (ج 1، ص 544، مط: مكتبة رشيدية):
(ودم استحاضة) حكمه (كرعاف دائم) وقتا كاملا (لا يمنع صوما وصلاة) ولو نفلا (وجماعا). (كتاب الطهارة، باب الحيض)."
فتویٰ نمبر: 67/8
دارالافتاء: دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی
پڑھا گیا: 11 بار