کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ہمبستری کی اور ہمبستری کرنے پر بیوی کو حیض آیا اور خون ذکر کو لگا ہوا تھا، ہمبستری کرنے سے پہلے حیض نہیں تھا، گزشتہ رمضان میں ایک بیٹی پیدا ہوئی ہے اب آیا اس کا کفارہ ہے کہ نہیں ہے اگر ہے تو کتنا ہے؟
دوران ہم بستری حیض آنےکاحکم
سوال
جواب
الجواب بعون الملک الوہاب
واضح رہے کہ دورانِ ہمبستری بیوی کو حیض آیا تو وہ گناہگار نہیں ہوگی اور شوہر نے لاعلمی میں بیوی کے ساتھ جماع کیا تو اس پر کوئی گناہ نہیں، لیکن آئندہ احتیاط کریں اور ساتھ توبہ واستغفار کا اہتمام کریں۔
کما فی الدر المختار (ص 543/ج، 1/مط رشیدیه):
ثم هو كبيرة لو عامداً مختاراً عالماً بالحرمة لا جاهلاً أو مكرها ناسياً فتلزمه التوبة. (كتاب الطهارة، باب الحيض).
وفي الهنديه (ص 72 / ج 1 / مط رشیدیه ):
فإن جامعها وهو عالم بالتحريم فليس عليه الا التوبة والاستغفار. (كتاب الطهارة) (الفصل الرابع في احكام الحيض والنفاس والاستحاضة).
وفي البحر الرائق (ص 342/ج، 1/ مط، رشیدیه):
ووطؤها في الفرج عالماً بالحرمة عامداً مختاراً كبيرة لا جاهلاً ولا ناسياً ولا مكرها فليس عليه الا التوبة والاستغفار. (كتاب الطهارة باب الحيض).
وفي مجمع الانهار (ص 80/ج، 1/مط المنار):
ولو وطئها غير مستحل عالماً بالحرمة عامداً مختاراً لا جاہلاً ولا ناسياً ولا مكرهاً كبيرة فليس عليه الا التوبة والاستغفار. (كتاب الطهارة، باب الحيض).
فتویٰ نمبر: 19/13
دارالافتاء: دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی
پڑھا گیا: 14 بار