دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

مذی نکلنے سے غسل کا حکم

سوال

میرا سوال ہے کہ اگر مذی ایک سے زاہد بار خارج ہو تو غسل ایک بار ہی ہو گا اور غسل کا طریقہ بھی بتا دیں شکریہ ۔

جواب

واضح رہےکہمذی کے نکلنے سے صرف وضو ٹوٹتا ہے، غسل واجب نہیں ہوتا۔

غسل کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اول دونوں ہاتھ گھٹوں تک دھوئے، پھر استنجاء کرے اور بدن سے حقیقی نجاست دھو ڈالے، پھر وضو کرے، پھراپنے سارے بدن پر تین مرتبہ پانی بہائے، ایسا کرنے سے سائل کا بدن پاک ہوجائیگا۔

نوٹ:غسل میں تین چیزیں فرض ہیں، ان کے بغیر غسل درست نہیں ہوتا، آدمی ناپاک رہتا ہے:اس طرح کلی کرنا کہ سارے منہ میں پانی پہنچ جائے۔ ناک میں پانی ڈالنا جہاں تک ناک نرم ہے۔ سارے بدن پر پانی پہنچانا۔

لمافي الصحیح البخاری:(62/1:مط:دارطوق النجاح):

عن علي، قال: كنت رجلا مذاء فأمرت رجلا أن يسأل النبي صلى الله عليه وسلم، لمكان ابنته، فسأل فقال: «توضأ واغسل ذكرك.

(کتاب الطہارۃ،باب غسل المذي والوضوء منه)

وفي الشامیۃ:(335/1:مط:رشیدیہ):

لا يفرض الغسل عند خروج مذي.(کتاب الطھارۃ،مطلب:فی تحریرالصاع والمد،والرطل).

وفي البحرالرائق:(102/1:مط:رشیدیہ):

”لا يجب الغسل بإنزال المذي والودي والبول بالإجماع.( کتاب الطھارۃ)

فتویٰ نمبر: 71/16

دارالافتاء: دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

پڑھا گیا: 9 بار