دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

دیوالی کی مٹھائی کھانے کا حکم.

سوال

سوال:
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے کہ میرے آفس میں ایک ہندو لڑکی نے دیوالی کی مٹھائی مجھے دی ہے، کیا میں یہ مٹھائی کھا سکتا ہوں؟

جواب

الجواب بعون الملك الوهاب:
واضح رہے کہ دیوالی کے موقع پر جو مٹھائی تقسیم ہوتی ہے، مسلمانوں کیلئے بہتر یہ ہے کہ اس کو قبول نہ کریں، لیکن اگر یہ یقین ہو کہ انہوں نے مٹھائی کو کسی مندر پر نہ چڑھایا ہو، اور نہ ہی اس میں کسی حرام و ناپاک چیز کی آمیزش ہو تو اس مٹھائی کو کھانے کی گنجائش ہے۔
كما في صحيح البخاري، ج 1 ص 356 مكتبة قديمي:
عن انس بن مالك ان يهودية اتت النبي ﷺ بشاة مسمومة فاكل منها فجيئ بها فقيل الا نقتلها، قال: لا، فما زلت اعرفها في لهوات رسول الله ﷺ.
وفي خلاصة الفتاوى، ج 4 ص 346 مكتبة رشيدية:
ولا بأس بطعام المجوس الا ذبيحتهم، وفي الاكل معهم. (كتاب الكراهية، الفصل الثالث، فيما يتعلق بالمعاصي).
وفي الهندية، ج 9 ص 158 مكتبة رشيدية:
ولا بأس بطعام المجوس كله الا الذبيحة. (كتاب الحظر والاباحة، الباب الرابع عشر في اهل الذمة).

فتویٰ نمبر: 50/9

جواب دہندہ: داراالافتاءجامعہ فرقانیہ

دارالافتاء: دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

پڑھا گیا: 8 بار