دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

خواب کی حقیقت،حکم اوراقسام

سوال

کیافرماتتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں کہ(1) خواب کی حقیقت کیا ہے؟ (2) خواب کا حکم (3) اس کی اقسام کتنی ہیں؟ (4) خواب کے عوامل کا تذکرہ کیجیے۔ (5) کن حالات میں خواب سچا ہو گا؟ (6) کیا ہر خواب کی تعبیر ہوتی ہے؟ تفصیل بیان کریں۔


جواب


الجواب حامداً ومصلیاً

واضح رہے کہ خواب کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سوئے ہوئے آدمی کے دل میں کچھ باتیں پیدا کر دیتے ہیں جیسا کہ بیدار آدمی کے دل و دماغ میں مختلف قسم کی باتیں آتی رہتی ہیں۔ مثلاً اس عالم دنیا اور عالم آخرت کے علاوہ ایک تیسرا عالم ہے جس کو عالم مثال کہا جاتا ہے، جب انسان سو جاتا ہے تو اس وقت مختلف قسم کی شکل، صورت، چلنا پھرنا، دیکھنا، سننا جو ہوتا ہے یہ سب افعال اسی عالم مثالی میں ہوتے ہیں، جو بیدار ہونے کے بعد بھی انسان کے ذہن میں گھومتے رہتے ہیں۔ تو یہی عالم مثال کے جتنے تخیلات ذہن میں گردش کر رہے ہوتے ہیں خواب کا پس منظر اور حقیقت ہے۔

لما فی شرح النووی:قال الامام المازري مذهب اهل السنت في حقيقة الرؤيا ان الله تعالى يخلق في قلب النائم اعتقادات كما يخلقها فى اليقظان وهو سبحانه و تعالى يفعل ما يشاء لا يمنعه نوم ولا يقظة فإذا خلق هذه الاعتقادات فكأنه جعلها علماً على امور اخر يلحقها في ثاني الحال.(مسلم کتاب الرؤیا، ج 2، ص 241، نعمانی کتب خانہ کابل)۔

(2) تمام اہل علم اس بات پر متفق ہیں کہ خواب حجت شرعی نہیں ہے اس لیے خواب سے کسی حکم شرعی کو ثابت کرنا درست نہیں ہے، چونکہ خواب کی حالت میں انسان کے حواس معطل ہو جاتے ہیں تو ایسی حالت میں اس کے ضبط پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے صحیح طور پر ضبط کیا ہے یا نہیں۔

ولما فی الاعتصام للشاطبی:ان الرؤيا من غير الانبياء لا يحكم بها شرعاً على حال الا ان تعرض على ما فى ايدينا من الاحكام الشرعية فان سوغتها عمل بمقتضاها والا وجب تركها والاعراض عنها وفائدتها البشارة أو النذارة خاصة واما استفادة الاحكام فلا الخ.صفحہ 2(الاعتصام ج 1، ص 260، بیروت،)۔

(3) علامہ ابن سیرین رحمہ اللہ نے خواب کی تین اقسام بیان فرمائی ہیں:بعض خواب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوتے ہیں جن کو رویا صالحہ کہا جاتا ہے، اور حدیث شریف میں ان کو نبوت کا چھیالیسواں حصہ قرار دیا ہے۔بعض خواب شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں جن میں عموماً فسق و فجور، گندگی نظر آتی رہتی ہے۔بعض خواب محض خیالات ہوتے ہیں۔

لما فی مشکوٰۃ المصابیح:وعن ابی هریرة رضی الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اقترب الزمان لم تكن تكذب رؤيا المؤمن ورؤيا المؤمن جزء من ستة واربعين جزءاً من النبوة وما كان من النبوة فانه لا يكذب قال محمد بن سيرين وانا اقول الرؤيا ثلث حديث النفس وتخويف الشيطان وبشرى من الله فمن رأى شيئاً يكرهه فلا يقصه على احد.(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الرؤیا، الفصل الاول، ج 2، ص 347، اصح المطابع)۔

(4) علامہ ابن سیرین فرماتے ہیں کہ لوگ شکل و صورت، طبیعت اور قد کے اعتبار سے خواب میں مختلف ہوتے ہیں۔ اسی طرح ایک شہر کے رہنے والے کی خواب، شہر کی آب و ہوا کی وجہ سے دوسرے شہر کے رہنے والے سے مختلف رہے گی۔اگر کسی شخص کی طبیعت پر گوشت، حلوا، شراب وغیرہ کے استعمال سے خون غالب ہو جائے تو خواب میں فصد (خون نکلوانا)، سینگی اور لبوں کی حرکت اور خوشی ہو جائے، پس تعبیر بیان کرنے والا اگر اس کے چہرے اور رنگ اور جسم کی فربہی اور خوشی و خرمی دیکھے تو یہ خواب غلبہ خون کی وجہ سے بے اصل ہے۔جب کسی شخص کی طبیعت پر گرم اور خشک چیزوں کے کھانے سے غلبہ آ جائے جیسے پیاز، پیر وغیرہ چیزیں، اور وہ شخص خواب میں آگ، شمع، قندیل وغیرہ دیکھے، جب تعبیر بیان کرنے والا اس کے چہرے کی زردی اور جسم کی لاغری اور تیز حرکت دیکھ لے تو جان لے اس پر خلطِ صفرا کے غلبہ کی وجہ سے خواب کی تعبیر نہیں ہو گی۔اگر کسی آدمی کی طبیعت پر بلغم بڑھانے والی اشیاء کا غلبہ ہو جائے جیسے دودھ، دہی، لسی وغیرہ اور وہ شخص خواب میں برف یا بارش کے مشابہ چیزوں کو دیکھے، پس تعبیر بیان کرنے والا اس کے چہرے کی زردی اور جسم کے فربہ ہونے کو دیکھے تو جان لے اس شخص پر خلطِ بلغم کا غلبہ ہونے کی وجہ سے اس کا خواب بے اصل ہے۔ تفصیل کے لیے تعبیر الرؤیا ملاحظہ ہو۔(دیکھیے کتاب تعبیر الرؤیا، علامہ ابن سیرین، مترجم مولانا ابوالقاسم، ص 62)۔صفحہ 3(5) علامہ ابن سیرین رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے کہ جو شخص باوضو ہو کر دائیں پہلو پر سو جائے اور ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی کرے اور کھانا بھی نہ بہت زیادہ کھائے اور نہ بہت کم تو ان شاء اللہ اس کی خواب سچی ہو گی۔ کیونکہ خالی معدہ سو جائے تو پریشان خواب دیکھے گا، اور اگر زیادہ کھائے گا تو سستی اور غفلت کی بناء پر خواب بھلا دے گا۔(تعبیر الرؤیا مترجم مولانا ابوالقاسم ص 71، المحمودیہ)۔(6) سب سے سچے خواب وہ سحری کے اوقات میں دکھائی دیتے ہیں اور ان کی تعبیر بھی سچی ہوا کرتی ہے البتہ بعض دفعہ کسی انسان کو زیادہ خوشی یا غمی لاحق ہو جاتی ہے، اور پھر ان ہی باتوں کے خیالات ذہن میں مستحضر ہو کر گھومتے رہتے ہیں۔ پس جب انسان سو رہا ہوتا ہے تو وہی منظر خواب میں دکھائی دیتا ہے۔ اسی طرح کبھی شیطان انسان کو خواب کی حالت میں دل و دماغ پر سوار ہو کر ڈراتا رہتا ہے تو یہ تمام خواب محض انسانی خیال ہوتے ہیں اور ان کی کوئی تعبیر نہیں ہوتی۔

لما فی مشکوٰۃ المصابیح:وعن ابی سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال اصدق الرؤيا بالاسحار.(کتاب الرؤیا، الفصل الثانی، ج 2، ص 397، اصح المطابع کراچی)۔ولما فی الترمذی:وعن ابی سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال اصدق الرؤيا بالاسحار.(ابواب الرؤیا، باب ما جاء ذهبت النبوة وبقيت المبشرات، ج 2، ص 53، سعید)۔ولما فی روح المعانی:(وما نحن بتأويل الاحلام) أي المنامات الباطلة (بعالمين) لأنها لا تأويل لها وانما التأويل للمنامات الصادقة وهذا إما لشيوع الأحلام فى أباطيلها..... وهو اشارة الى كبرى قياس ساقوه الحذر عن جعلهم كأنهم قالوا هذه رؤيا باطلة وكل رؤيا كذلك لا نعلم تأويلها.صفحہ 4اي لا تأويل لها حتى يعلم، ينتج هذه رؤيا لا تأويل لها.

 

فتویٰ نمبر: 28/16

جواب دہندہ: داراالافتاءجامعہ فرقانیہ

دارالافتاء: دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

پڑھا گیا: 4 بار