دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

تعویذپہننے کاحکم

سوال

کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں کیاتعویذپہننادرست ہے؟

جواب

الجواب وهو الموفق للحق والصواب

واضح رہے کہ تعویذ پہنایا باندھنا شرعاً جائز ہے، البتہ اس کے شرعاً جائز ہونے کی شرائط درج ذیل ہیں۔

1.     تعویذ قرآنی آیات و احادیث مبارکہ میں وارد شدہ دعاؤں یا اللہ کے اسما و صفات یا ایسے کلمات پر مشتمل ہو جن کا بیان واضح ہو اور مفہوم شریعت کے مطابق ہو۔

2.     ان تعویذات میں غیر اللہ سے مدد نہ مانگی گئی ہو، یعنی اس میں کوئی کلمات شرکیہ نہ ہوں۔

3.     تعویذ کے مؤثر حقیقی ہونے کا عقیدہ نہ رکھے، بلکہ اسباب کے درجہ میں شمار کر کے اللہ تعالیٰ کی ذات کے مؤثر حقیقی ہونے کا عقیدہ ہو۔

ان شرائط کے ساتھ تعویذ پہننا یا باندھنا شرعاً جائز ہے۔

كما في المستدرك: (ج: 4 ص: 236) مكتبة رشيدية:

عن عوف بن مالك الأشجعي قال: كنا نرقي في الجاهلية فقلنا: يا رسول الله كيف ترى في ذلك؟ فقال: "أعرضوا علي رقاكم،لابأس بالرقى ما لم يكن فيه شرك".
(كتاب الطب).

وفي حاشية ابن عابدين: (ج: 9 ص: 600) مكتبة رشيدية:

إنما تكره العوذة إذا كانت بغير لسان العرب، ولا يدرى ما هو ولعله يدخله سحر أو كفر أو غير ذلك، وأما ما كان من القرآن أو شيئ من الدعوات فلا بأس به.
(كتاب الحظر والإباحة: باب: فصل في اللبس).

وفي فتح الباري: (ج: 10 ص: 195) مكتبة دار المعرفة:

قد أجمع العلماء على جواز الرقى عند اجتماع ثلاثة شروط أن يكون بكلام الله أو بأسمائه وصفاته وباللسان العربي أو بما يعرف معناه من غيره وأن يعتقد أن الرقية لا تؤثر بذاتها بل بذات الله تعالى.(كتاب الطب: باب الرقى بالقرآن).

فتویٰ نمبر: 90/11

دارالافتاء: دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

پڑھا گیا: 5 بار