الجواب حامداً ومصلياً ومسلماً:
واضح رہے کہ ایک شخص کا پیشاب اس طرح جاری ہو کہ ایک نماز کے پورے وقت میں اس کو اتنا وقت نہ مل سکے کہ وہ وضوء کر کے نماز پڑھ سکے تو یہ شخص معذور ہے، اس کے لئے گنجائش ہے کہ وہ وضوء کر کے اسی حالت میں نماز پڑھے، کپڑے بھی تبدیل نہ کرے۔ لیکن اگر اتنا وقت اس مرض سے خالی گزرتا ہے کہ وہ اس میں نماز اداء کر سکے تو پھر وہ معذور نہیں ہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ وضوء ٹوٹ جانے پر دوبارہ پاکی حاصل کر کے نماز پڑھے اور کپڑوں اور جسم پہ جو نجاست ہے وہ بھی زائل کرے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں اس شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ پمپر اتار کر پاکی حاصل کرے، جسم کے جس حصے پہ گندگی لگی ہے اس کو پاک کر کے پھر نماز پڑھے۔ البتہ ہر نماز کے لئے پمپر اتارنا مشکل ہے اس لئے آسانی کے لئے یہ کرے کہ پمپر کے اندر کوئی رومال، کپڑا، یا ٹشو رکھے اور نماز کے وقت اس کو اتار دے پھر نماز پڑھے۔
کمافی تنوير الأبصار مع الدر (ج: 1 / ص: 553، 554 / مط: رحمانیہ):
(وصاحب عذر من به سلس بول) لا يمكنه امساكه أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمناً يتوضأ ويصلي فيه خالياً عن الحدث ... (وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحوه (لكل صلاة). (كتاب الطهارة مطلب في أحكام المعذور).
وفی مجمع الأنہر (ج: 1 / ص: 84، 85 / مط: المنار):
المستحاضة ومن به سلسل بول أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو رعاف دائم أو جرح لا يرقأ يتوضؤن لوقت كل صلاة، ويصلون في الوقت ما شاء من فرض ونفل ويبطل بخروجه فقط ... والمعذور من لا يمضى عليه وقت صلاة إلا والذي ابتلي به يوجد فيه. (كتاب الطهارة باب الحيض).
وفی حاشية الطحطاوي (ص: 149 / مط: قدیمی کتب خانہ):
ومن به عذر كسلس بول أو استطلاق بطن وانفلات ريح ورعاف دائم وجرح لا يرقأ ولا يمكن حبسه بحشو من غير مشقة ولا بجلوس ولا بالإيماء في الصلاة فبهذا يتوضؤن لوقت كل فرض لا لكل فرض ولا نفل. (كتاب الطهارة باب الحيض والنفاس والإستحاضة).
وفی رد المحتار (ج: 1 / ص: 530 / مط: رحمانیہ):
: وفي شرح الوقاية": وضع الكرسف مستحب للبکر في الحيض والثيب في كل حال، وموضعه موضع البكارة، ويكره في فرج الداخل، وفي غيره أنه سنة للثيب في الحيض مستحب في الطهر ولو صلتا بدونه جاز۔ والكرسف: بضم الكاف والسين المهملة بينها راء ساكنة القطن، وفي اصطلاح الفقهاء: ما يوضع على فم الفرج. (كتاب الطهارة مطلب لو أفتى مفت بشيئ من هذه الأقوال في موضع الضرورة).