دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

بیٹھے بیٹھے سو جانے سے وضوء نہیں ٹوٹتا

سوال

کیا فرماتے ہیں، مفتیانِ کرام:کسی شخص کی اگر بیٹھے بیٹھے آنکھ لگ جائے، (مرد ہو عورت) کرسی پر ہو، یا زمین پر، نماز کی حالت میں ہو، یا کسی دوسری حالت میں، تو وضوء ٹوٹنے اور نہ ٹوٹنے کے حوالے سے تفصیل ذکر کریں؟ (2) سجدے میں ناک کے ہرے کا زمین پر رکھ دینا کافی ہے کہ نہیں؟ (3) گدے کے فوم پر نماز ہو سکتی ہے کہ نہیں؟

جواب

"الجواب بعون الملک الوہاب"

(1) اگر کوئی بیٹھے بیٹھے سو گیا (مرد ہو یا عورت) کرسی پر ہو یا زمین پر، نماز کی حالت میں ہو یا کسی دوسری حالت میں، اور کوئی سہارا نہ ہو تو وضوء نہیں ٹوٹے گا۔ (2) بغیر عذر کے صرف ناک پر سجدہ کرنے سے نماز اداء نہیں ہوگی۔ (3) لچکدار گدے کے فوم پر نماز جائز نہیں کیونکہ اس میں زمین جیسی سختی حاصل نہیں ہوتی۔ زمین کے علاوہ چیزوں میں زمین جیسی سختی کا پایا جانا ضروری ہے۔

 کما فی اعلاء السنن ج 1 ص 156 مط مکتبۃ القرآن:

 عن ابی ہریرۃ: يقول ليس على المحتبى النائم ولا على القائم النائم ولا على الساجد النائم وضوء حتى يضطجع،فإذا اضطجع توضاء.

 و کما فی البدائع الصنائع ج 1 ص 133 مط رشیدیہ:

 روی عن ابن عباس ان النبی ﷺ نام فی صلاتہ حتی غط و نفخ ثم قال لا وضوء علی من نام قائماً و قاعداً او راکعاً او ساجداً انما الوضوء علی من نام مضطجعاً ...

 کما فی التاتارخانیہ ج 1 ص 370 مط قدیمی کتب خانہ:

وقال ابو یوسف و محمد رحمہما اللہ لا یتادی بوضع الانف وفی "جامع الجوامع" الا اذا کان بجبهتہ عذر "وفی "التفرید" یجوز عند ابی حنیفۃ مع الکراہۃ.

 کما فی البحر الرائق ج 1 ص 558 مط رشیدیہ:

 والاصل کما انہ یجوز السجود علی الارض یجوز علی ما ہو بمعنی مما تجد جبهتہ حجمہ و تستقر علیہ.

 

فتویٰ نمبر: فتوی نمبر16/5

دارالافتاء: دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

پڑھا گیا: 1 بار