دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

ولادت کےبعدعورت کی مدت نفاس

سوال

سوال: کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک عورت کی بیٹی پیدا ہوگئی پھر 37 دن خون آیا پھر وہ پاک ہوگئی نہائی، پھر 6 دن پاک رہی پھر 6 دن خون آیا، ساتویں دن نہائی اور پاک ہوگئی پھر 12 دن تک پاک رہی، تیرہویں دن پھر خون آیا۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ 37 دن نفاس کے بعد کا دن پاک رہی (پھر 6 دن خون آیا تو یہ 6 دن کا خون نفاس کا ہوا یا حیض کا؟)

پھر نہائی کے بارہ دن ہوئے تیرہویں دن پھر خون آیا حالانکہ پاکی کی کم سے کم مدت کا دن ہے اور یہاں 12 دن پاکی رہی ہے۔ لہذا یہ خون حیض کا ہوا، نفاس کا ہوا یا استحاضہ کا؟ اور اس عورت کیلئے نماز کا کیا حکم ہوگا؟

نوٹ: عورت کی پہلی مرتبہ اولاد ہوئی ہے یعنی مبتدأ في النفاس ہے۔ اور پانچ دن حیض کی عادت ہے اور طہر کے خاص ایام نہیں ہیں کبھی 15 دن، کبھی 18 کبھی 20 اسی طرح ایام طہر رہتے ہیں۔ لہذا اس مسئلے کو واضح کر دیں۔ جزاکم اللہ خیرا۔


جواب

الجواب حامداً ومصلياً

واضح رہے کہ نفاس اور حیض میں توالی یعنی تسلسل ناممکن ہے جس طرح کہ دو حیضوں میں توالی ناممکن ہے، ان کے درمیان کم از کم پندرہ (15) دن کا وقفہ ضروری ہے۔ لہذا اس مدت سے پہلے دوبارہ خون آئے تو وہ استحاضہ شمار ہوگا۔

اس صورتِ مسئولہ میں 37 دن خون کے بعد تین دن اور ملا کر یہ چالیس (40) دن اس عورت کے نفاس کے ایام شمار ہوں گے۔ اور اس کے بعد طہر شروع ہوگا اور وہ غسل کر کے نماز وغیرہ پڑھ لے گی۔ اور درمیان میں جو چھ (6) دن خون آیا ہے وہ استحاضہ کا ہوگا۔ ان ایام میں ہر نماز کے وقت نیا وضو کر کے نماز ادا کرے گی۔

پھر 12 دن پاکی کے بعد جو خون آیا ہے وہ حیض شمار ہوگا اگر تین دن سے زیادہ ہو تو ،کیونکہ درمیان میں طہر کی مدت گزر گئی ہے مثلاً 3 دن شروع کے پاکی کے پھر 6 دن خون کے پھر 12 دن پاکی کے یہ 21 دن طہر کے شمار ہوں گے اور ان کے بعد آنے والا خون حیض ہوگا پھر وہ عورت اپنی عادت کے مطابق ایامِ حیض گزارے گی جو کہ پانچ دن ہے۔

لہذا جو 12 دن کے بعد خون آیا ہے ان میں حیض کے پانچ دن وہ نماز وغیرہ نہیں پڑھے گی۔

كما في القرآن الكريم سورة البقره آیت نمبر ۲۲۲:

وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ

وفي جامع الترمذي جلد 1 ص 36 مكتبه ايچ ايم سعيد كمپني:

عن أم سلمة رضي الله عنها قالت: كانت النفساء تجلس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم أربعين يوما وكنا نطلي وجوهنا بالورس من الكلف. (الجواب الطهارة باب ما جاء في كم تمكث النفساء).

وفي تنوير الأبصار مع الدر المختار جلد 1 ص 534 مكتبه رحمانيه:

وأقل الطهر بين الحيضتين أو النفاس والحيض خمسة عشر يوما ولياليها إجماعا ولا حد لأكثره وإن استغرق العمر. (كتاب الطهارة باب الحيض).

وفي رد المحتار جلد 1 ص 536 مكتبه رحمانيه:

إذ وقع في المبتدأة... ونفاسها أربعون ثم عشرون طهرها، إذ لا يتوالى نفاس وحيض ثم عشرة حيضها ثم ذلك دأبها. (كتاب الطهارة باب الحيض).

وفي تنوير الأبصار مع الدر المختار جلد 1 ص 538 مكتبه رحمانيه:

ولو طهرا متخللا بين الدمين فإنه حيض لأن العبرة لأوله وآخره وعليه المتون فالحفظ. ثم ذكر أحكامه بقوله يمنع صلاة مطلقا ولو سجدة شكر وصوما وجماعا.

وفي رد المحتار تحت قوله ولو طهورا مستخللا:

الطهر المتخلل بين الأربعين في النفاس لا يفصل عند أبي حنيفة سواء كان خمسة عشر أو أقل أو أكثر ويجعل إحاطة الدمين بطرفيه كالدم المتوالي وعليه الفتوى. (كتاب الطهارة باب الحيض).

وفي رد المحتار جلد 1 ص 546 مكتبه رحمانيه:

لأن من أصل الإمام أن الدم إذا كان في الأربعين فالطهر المتخلل لا يفصل طال أو قصر، حتى لو رأت ساعة دما وأربعين إلا ساعتين طهرا ثم ساعة دما كان الأربعون كلها نفاسا وعليه الفتوى. (كتاب الطهارة باب الحيض).

وفي الهندية جلد 1 ص 37 مكتبه رشيديه:

فإن زاد الدم على الأربعين فالأربعون في المبتدأة والمعروفة في المعتادة نفاس. (كتاب الطهارة الباب السادس الفصل الثاني في النفاس).

وفيه أيضا جلد 1 ص 37:

الطهر المتخلل في الأربعين بين نفاس عند أبي حنيفة وإن كان خمسة عشر يوما فصاعدا وعليه الفتوى.

وفيه أيضا جلد 1 ص 39:

ولو رأت الدم بعد أكثر الحيض والنفاس في أقل مدة الطهر فما رأت بعد الأكثر إن كانت مبتدأة وبعد العادة إن كانت معتادة استحاضة. (كتاب الطهارة الباب السادس الفصل الثالث في الاستحاضة)

 

فتویٰ نمبر: 22/13

دارالافتاء: دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

پڑھا گیا: 14 بار