(1) اگر نمازی کے سامنے سے کوئی کھڑا ہو کر ایک طرف نکل جائے تو کیا یہ جائز ہے؟(2) بعض لوگ نمازی کی طرف منہ کر کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں تو کیا شریعت میں اس کا کوئی حکم ہے؟
نمازی کے سامنے پیٹھ کر کے نکل جانے کا حکم
سوال
جواب
الجواب حامداومصلیاومسلما
(1)واضح رہے کہ صورت مسئولہ میں جب کسی کے پیچھے کسی نے آکر نماز شروع کر دی تو سامنے والا شخص نمازی سے ایک طرف نکل جائے تو یہ جائز ہے۔(2)نماز پڑھنے والے کے سامنے والا شخص اپنا منہ نمازی کی طرف کرے تو یہ مکروہ ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں بعض لوگوں کا نمازی کی طرف منہ کر کے کھڑا ہونا مکروہ ہے اس لئے کہ ایسا کرنے سے نماز پڑھنے والے کا خشوع ختم ہو جاتا ہے بلکہ اس کو ایک طرف نکل جانا چاہیے۔
لما في الحديث:(سنن نسائی:123:مط: رحمانیہ):
وعن عائشة رضى الله تعالى عنها قالت كنت بين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو كُنْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَإِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَقُومَ كَرِهْتُ أَنْ أَقُومَ فَأَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَانْسَلَلْتُ انسلالا ( كتاب القبلة ذكر ما يقطع الصلوة ومالا يقطع اذا لم يكن بين يدى المصلى سترة).
ولما في الدر المختار:(2/296:مط:رحمانیہ):
وصلاته الى وجه (انسان) ککراهة استقباله فالاستقبال لو من المصلى فالكراهية عليه والا فعلی المستقبل ولو بعيدا. كذا في رد المحتار(کتاب الصلاۃ)
فتویٰ نمبر: 60/16
دارالافتاء: دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی
پڑھا گیا: 32 بار