دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

مسبوق کا امام کے ساتھ سلام پھیرنے کا حکم

سوال

ایک آدمی امام کے ساتھ دوسری رکعت میں مل جاتا ہے، جب امام آخر میں سلام پھیر لیتا ہے اس کے ساتھ وہ آدمی بھی دونوں طرف سلام پھیر لیتا ہے حالانکہ اس کی رکعت باقی تھی اور پھر وہ اٹھ کر باقی رکعت پوری کر کے آخر میں سجدہ سہو بھی کر لیتا ہے، تو کیا اس طرح اس کی نماز ہوگی؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً:

واضح رہے کہ مسبوق اگر بھول کر دونوں طرف سلام پھیر دے حالانکہ ابھی تک اس کی نماز پوری نہیں ہوئی تھی، کوئی رکعت باقی تھی، تو ایسی صورت میں جب مسبوق کا سینہ قبلے کی طرف نہ پھرا ہو اور نہ ہی اس نے کسی مفسدِ نماز کا ارتکاب کیا ہو تو فوراً یاد آنے پر یا کسی دوسرے کے یاد دلانے سے بقیہ نماز سجدہ سہو کے ساتھ پوری کر لی تو اس کی نماز درست ہے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ آدمی نے جب تک کسی مفسدِ نماز کا ارتکاب نہ کیا ہو، اور پھر فوراً اٹھ کر بقیہ نماز سجدہ سہو کے ساتھ پوری کر لی ہے تو نماز درست ہے۔ نوٹ: اگر مسبوق نے امام سے پہلے یا اس کے ساتھ سہواً سلام پھیرا تو سجدہ سہو لازم نہیں ہے، البتہ امام کے سلام کے بعد مسبوق نے سلام پھیر لیا تو سجدہ سہو لازم ہے۔

 لما في الحديث:( اعلاء السنن، كتاب الصلاة، باب وجوب سجود السهو، ۱۳۲/۷، ادارة القرآن): 

عن عمران بن حصين رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى ثلاثاً ثم سلم فقال له الخرباق انك صليت ثلاثاً فصلى بهم الركعة الباقية ثم سلم ثم سجد سجدتي السهو وهو جالس ثم سلم.

 ولما في در المختار: (در المختار كتاب الصلاة، باب سجود السهو، ۶۷۳/۲ تا ۶۷۴، رحمانیہ):

ويسجد للسهو ولو مع سلامه ناوياً للقطع لان نية تغيير المشروع لغو مالم يتحول عن القبلة او يتكلم سلم مصلي الظهر على راس الركعتين توهماً اتمامها أتمها اربعاً وسجد للسهو لان السلام ساهياً لا يبطل لانه دعاء من وجه. 

ولما في رد المحتار:( رد المحتار كتاب الصلاة، باب سجود السهو، ص ۲۵۹، رحمانیہ):

 ولا سجود عليه ان سلم سهواً قبل الإمام او معه وان سلم بعده لزمه لكونه منفرداً حينئذٍ بحر.

 

فتویٰ نمبر: 57/16

دارالافتاء: دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

پڑھا گیا: 17 بار