دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

عیسائیوں کی کمپنی میں مسلمان کاملازمت کرنےکاحکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عیسائیوں کی ایک کمپنی ہے، جہاں صرف شراب کے لیے شیشے کی بوتلیں بنائی جاتی ہیں، اس کمپنی میں مسلمانوں کا کام کرنا شرعاً کیسا ہے؟

جواب

الجواب باسم ملهم الصواب
واضح رہے کہ جس کمپنی میں صرف شراب کی بوتلیں بنتی ہیں، وہاں کام کرنا گناہ میں معاونت کی وجہ سے مسلمانوں کے لیے ایسی کمپنی میں ملازمت کرنا جائز نہیں ہے، قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنے اور گناہ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرنے کا حکم فرمایا ہے۔
كما في قوله تعالى:{سورة المائدة، رقم الآية 2}
{وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ} الآيه۔
وفي احكام القرآن للجصاص، ج: 3 ص: 485، مط: قديمي كتب خانه:
وقوله تعالى: وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى يقتضي ظاهره إيجاب التعاون على كل ما كان طاعة الله تعالى، لأن البر هو طاعات الله. وقوله تعالى: وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى۔
وفي سنن أبي داود، ج: 2 ص: 162، مط: الهاميه:
ان عمر رضي الله عنه، يقول: قال رسول الله ﷺ: (لعن الله الخمر وشاربها وساقيها وبائعها ومبتاعها وعاصرها ومعتصرها وحاملها والمحمولة اليه)۔
وفي الشامي (حاشية ابن عابدين) ج: 21، ص: 360، مط: رشیدیه:
وما كان سببا لمحظور فهو محظور۔{كتاب الأشربة، باب العصير}
وأيضا: ج: 22، ص: 33/34:
(و) جاز تعمير كنيسة و (حمل خمر ذمي بنفسه أو دابته (بأجر) لا عصرها لقيام المعصية بعينه۔
(قوله: لا عصرها لقيام المعصية بعينه فيه منافاة ظاهرة لقوله سابقا: (لأن المعصية لا تقوم بعينه)، وهو مناف أيضا لما قدمناه عن "الزيلعي" (من جواز استئجاره لعصر العنب أو قطعه، ولعل المراد هنا: عصر العنب على قصد الخمرية، فإن عين هذا الفعل معصية بهذا القصد، ولذا أعاد الضمير على الخمر مع أن العصر للعنب حقيقة، فلا ينافي ما مر (من جواز بيع العصير واستئجاره على عصر العنب) هذا ما ظهر لي فتأمل۔{كتاب الحظر والإباحة، مطلب: لا يجوز بيع السلاح لأهل الفتنة}

فتویٰ نمبر: 6/9

دارالافتاء: دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

پڑھا گیا: 5 بار