اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، جن میں علم، عقل اور ذرائعِ ابلاغ خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ موجودہ دور میں انٹرنیٹ ایک ایسی عظیم نعمت بن چکا ہے جس نے دنیا کو ایک عالمی گاؤں کی شکل دے دی ہے۔ چند لمحوں میں دنیا کے کسی بھی کونے کی معلومات حاصل کرنا، تعلیم حاصل کرنا، تحقیق کرنا اور لوگوں سے رابطہ قائم کرنا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ تاہم ہر نعمت کی طرح انٹرنیٹ کا صحیح یا غلط استعمال بھی انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔

اسلام ہمیں ہر نعمت کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق استعمال کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر انٹرنیٹ کو علم حاصل کرنے، دینی معلومات سیکھنے، اچھی کتابوں کے مطالعے، مثبت تحقیق، دعوتِ دین، کاروبار اور جائز ضروریات کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ ایک نہایت مفید ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔ آج ہزاروں اسلامی کتب، تفاسیر، احادیث، فتاویٰ، علمی مقالات اور دروس چند لمحوں میں دستیاب ہو جاتے ہیں، جس سے طلبہ، اساتذہ اور عام مسلمان یکساں فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا﴾

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی، درست بات کہا کرو۔

(سورۃ الأحزاب: 70)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ.

"آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ بے فائدہ چیزوں کو چھوڑ دے۔"

یہ تعلیمات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ہماری زبان، قلم اور آج کے دور میں ہماری آن لائن سرگرمیاں بھی ہماری ذمہ داری ہیں۔

بدقسمتی سے انٹرنیٹ کا غلط استعمال بھی بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بے مقصد وقت ضائع کرنا، جھوٹی خبریں پھیلانا، دوسروں کی عزت کو نقصان پہنچانا، غیر اخلاقی مواد دیکھنا، فضول بحث و مباحثہ کرنا اور سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال انسان کی دینی، اخلاقی اور معاشرتی زندگی پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ خصوصاً نوجوانوں اور طلبہ کو چاہیے کہ وہ اپنے قیمتی وقت کی حفاظت کریں، کیونکہ وقت ایک ایسی دولت ہے جو ایک بار گزر جائے تو واپس نہیں آتی۔

مدارسِ دینیہ کے طلبہ کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ انٹرنیٹ کو اپنی علمی ترقی کا ذریعہ بنائیں۔ معتبر علمی ویب سائٹس سے استفادہ کریں، تحقیق کے لیے جدید ذرائع اختیار کریں، اسلامی لائبریریوں سے فائدہ اٹھائیں اور ٹیکنالوجی کو دین کی خدمت، دعوت اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے استعمال کریں۔

والدین اور اساتذہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ نئی نسل کی رہنمائی کریں، ان میں صحیح اور غلط کی پہچان پیدا کریں اور انہیں انٹرنیٹ کے فوائد کے ساتھ اس کے نقصانات سے بھی آگاہ کریں۔ مناسب نگرانی، وقت کی پابندی اور اخلاقی تربیت اس سلسلے میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔

مختصراً، انٹرنیٹ بذاتِ خود نہ اچھا ہے اور نہ برا، بلکہ اس کا استعمال اسے مفید یا نقصان دہ بناتا ہے۔ اگر ہم اسے علم، تحقیق، اصلاح اور خیر کے کاموں کے لیے استعمال کریں تو یہ ہمارے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بن سکتا ہے، لیکن اگر اسے گناہ، فضولیات اور وقت کے ضیاع میں استعمال کیا جائے تو یہی نعمت آزمائش بن سکتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی تمام نعمتوں، خصوصاً علم اور ٹیکنالوجی کو صحیح، ذمہ دارانہ اور شریعت کے مطابق استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔