دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

کوئلہ پرتیمم کرنےکاحکم

سوال

 کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کوئلے پر تیمم کرنا جائز ہے یا نہیں؟ 

جواب

الجواب وهو الموفق للحق والصواب:

واضح رہے کہ تیمم ایسی چیز سے ہو جو زمین کی جنس سے ہو، زمین کی جنس سے ہر وہ چیز مراد ہے جو جلانے سے نہ جلےاورنہ راکھ بنے،نہ پگھلانےسےپگھلے ۔رہاکوئلہ پرتیمم کرناتو کوئلہ کی دو قسم ہیں: (1) جبلی (پہاڑی) جو کان سے نکالا جاتا ہے، اس کا شمار زمین کی جنس سے ہوتا ہے، (2) لکڑی کو جلا کر بنا ہوا کوئلہ، یہ زمین کی جنس سے نہیں ہے، لہذا کوئلہ کی دوسری قسم پر تیمم کرنا جائز نہیں، جب کہ پہاڑی کوئلہ چونکہ زمین کی جنس میں سے ہے اور پتھر کی طرح ہے اس پر تیمم کرنا جائز ہے۔

كما في المبسوط للسرخسي: (ج: 01 ص: 247) مكتبة رشيدية:

قال (إن كان الملح جبليا يجوز؛ لأنه من جنس التراب وإن كان مائعا لا يجوز؛ لأنه ليس من جنس التراب ... وأما الكحل والمرداء سبخ من جنس الأرض فيجوز التيمم بهما والآجر كذلك؛ لأنه طين مستحجر فهو كالحجر الأصلي والتيمم بالحجر يجوز في قول أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى وإن لم يكن عليه غبار. (باب التيمم).

وفي الفتاوى الهندية: (ج: 01 ص: 45) مكتبة رشيدية:

(ومنها الصعيد الطيب يتيمم بطاهر من جنس الأرض. كذا في التبيين كل ما يحترق فيصير رمادا كالحطب والحشيش ونحوهما أو ما ينطبع ويلين كالحديد والصفر والنحاس والزجاج وعين الذهب والفضة ونحوها فليس من جنس الأرض وما كان بخلاف ذلك فهو من جنسها. (كتاب الطهارة باب التيمم).

و في حاشية ابن عابدين (ج: 01 ص: 453) مكتبة رشيدية:

قوله ولا بمنطبع هو ما يطرق ويلين كالحديد منح (قوله وزجاج) أي المتخذ من الرمل وغيره بحر (قوله ومترمد) أي ما يحترق بالنار فتصير رمادا بحر (قوله إلا رماد الحجر) كجص وكلس (قوله كحجر) تنظير لا تمثيل (قوله أو مغسول). (كتاب الطهارة: باب التيمم).

فتویٰ نمبر: 3/12

دارالافتاء: دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

پڑھا گیا: 8 بار

ملتے جلتے سوالات