دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

والدکی زندگی میں فوت ہونےوالےوارث کاحصہ نہیں ہے

سوال

کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ بیٹی اپنےوالد کی موجودگی میں فوت ہوگئی ہے،اس کاوالدبعدمیں فوت ہواہے،کیااس کےبچےاپنےناناکی وراثت کامطالبہ کرسکتے ہیں یانہیں؟مہربانی کرکےشریعت محمدی کےمطابق جواب عنایت فرمائیں۔
المستفتی:محمدیونس

جواب

الجواب حامداومصلیاومسلما
واضح رہے شریعت مطہرہ میں میراث کی تقسیم مورث(فوت شدہ) کے انتقال کے بعد ہوتی ہے، اگر سوال میں لکھی گئی بات واقع کے مطابق ہے تو مرحومہ بیٹی کاوالدصاحب کی میراث میں شرعاًحق نہیں ہے،لہذا اس کی اولادکاناناکی وراثت کا مطالبہ درست نہیں ہے۔
وفي رد المحتارعلی الدرالمختار: (10/ 525،26:مط:رشیدیہ):
وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه، وأسبابه وموانعه. (کتاب الفرائض).
وفي مبسوط للسرخسی:)18/34:مط:دارالمعرفۃ بیروت):
إن حياة الوارث عند موت المورث شرط ليتحقق له صفة الوراثة.
(کتاب الاقرار،باب الإقرار للوارث وغيره من المريض).
کتبہ:محمدرحیم سواتی عفی عنہ
داراالافتاء جامعہ فرقانیہ

فتویٰ نمبر: 0004

دارالافتاء: دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

پڑھا گیا: 17 بار