الجواب حامداومصلیاومسلما
واضح رہے شریعت مطہرہ میں میراث کی تقسیم مورث(فوت شدہ) کے انتقال کے بعد ہوتی ہے، اگر سوال میں لکھی گئی بات واقع کے مطابق ہے تو مرحومہ بیٹی کاوالدصاحب کی میراث میں شرعاًحق نہیں ہے،لہذا اس کی اولادکاناناکی وراثت کا مطالبہ درست نہیں ہے۔
وفي رد المحتارعلی الدرالمختار: (10/ 525،26:مط:رشیدیہ):
وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه، وأسبابه وموانعه. (کتاب الفرائض).
وفي مبسوط للسرخسی:)18/34:مط:دارالمعرفۃ بیروت):
إن حياة الوارث عند موت المورث شرط ليتحقق له صفة الوراثة.
(کتاب الاقرار،باب الإقرار للوارث وغيره من المريض).
کتبہ:محمدرحیم سواتی عفی عنہ
داراالافتاء جامعہ فرقانیہ