دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

شادی شدہ ہندوعورت کا اسلام لانےکےبعدمسلمان سے شادی کاحکم

سوال

کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں میرانام شاہدہے۔میں آپ کی خدمت میں ایک شرعی مسئلہ کےبارے میں رہنمائی اور فتوی کی درخواست لےکرحاضرہوا ہوں۔میری بیوی کاموجودہ نام عائشہ بی بی ہے،جبکہ اسلام سے پہلےان کانام پریمی تھا۔ان کی پہلےایک ہندوشخص سےشادی ہوچکی تھی،لیکن بعدمیں انہوں نے اپنی مرضی سےاسلام قبول کیااور کراچی دارالامان میں رہائش اختیارکی۔وہاں انہوں نےعدالت میں باقاعدہ بیان بھی دیاکہ وہ اپنی مرضی سےمسلمان ہوئی ہے،اسلام قبول کرنےکےبعدمیں نےان سےشرعی نکاح کیا،اس وقت ان کےپہلےشوہرسےایک شیرخواربچہ بھی تھا،جواب تقریباًچارسال کا ہوچکاہے۔ہمارےنکاح کےہماراایک اور بچہ بھی پیداہواہے۔
اب مسئلہ یہ درپیش ہےکہ جب میں نادرا آفس گیاتاکہ اپنی بیوی کاشناختی کارڈاپنے نام پررجسٹرکرواسکوں،تو انہوں نےپہلےشوہرسے طلاق نامہ یا خلع نامہ لانےکامطالبہ کیا۔لیکن(1)ہندو مذہب میں طلاق کا واضح نظام نہیں ہے۔(2)اگر ہم پہلےشوہر سے رابطہ کرتے ہیں تو میری بیوی کی جان کوخطرہ ہوسکتاہے(3)وہ لوگ پہلے بھی بچے کولینے کی کوشش کرچکےہیں ،اور اب بھی خدشہ موجود ہے۔اس لئےآپ سے گزارش ہےکہ قرآن وحدیث کی روشنی میں اس مسئلہ پر رہنمائی فرمائیں۔
• کیااسلام قبول کرنےکےبعد عورت کانکاح خودبخود سابقہ(غیرمسلم)شوہرسے ختم ہوجاتاہے؟
• کیا ایسی صورت میں دوسرے مسلمان مردسے نکاح درست شمار ہوگا؟
• اور براہ کرم اس بارے میں ایک تحریری فتوی بھی مرحمت فرمادیں تاکہ ہم سرکاری اداروں میں پیش کرسکیں۔

جواب

الجواب حامداومصلیاومسلما
واضح رہے کہ شریعت مطہرہ میں کوئی غیر مسلم شادی شدہ عورت مسلمان ہوجائے تو اسلام لاتے ہی اس کانکاح نہیں ٹوٹتا،بلکہ اگرمیاں بیوی دونوں اسلامی ملک میں ہوتو معاملہ عدالت میں پیش کیاجائے گا،اس کےبعد قاضی غیرمسلم شوہرپر اسلام پیش کرےگااگر شوہر اسلام سے انکارکردے تو قاضی دونوں کے درمیان تفریق(جدائی)کرےگا اور یہ تفریق طلاق شمار ہوگی اس کے بعد عورت عدت گزارکردوسری جگہ نکاح کرسکےگی۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگراس عورت نے اسلام لانے کےبعدبذریعہ قاضی اپنےشوہرپر اسلام پیش کیاتھااور اس نے انکارکردیاتھاتوعدت کےبعداس کاسائل کےساتھ نکاح جائزہے اور اگر شوہرپر اسلام پیش کئےبغیردوسرانکاح کیاگیاہےتویہ نکاح منعقدہی نہیں ہوالہذا سائل کوچاہئےکہ وہ اس عورت کو چھوڑنے کےالفاظ(میں نے چھوڑدی وغیرہ)بول کر علیحدگی اختیارکرے اور بذریعہ عدالت شوہرپراسلام پیش کیاجائےاگروہ انکارکردے تو عدت کےبعددوبارہ نکاح کردے۔
کمافي احکام القرآن للجصاص تحت ھذہ الایہ 5/330:مط:داراحیاء التراث العربی):
﴿فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ لَا هُنَّ حِلٌّ لَهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ ﴾
واتفق فقهاء الأمصار على أنها لا تبين منه بإسلامها إذا كانا في دار واحدة واختلفوا في وقت وقوع الفرقة إذا أسلمت ولم يسلم الزوج فقال أصحابنا إن كانا ذميين لم تقع الفرقة حتى يعرض الإسلام عليه فإن أسلم وإلا فرق بينهما وهو معنى ما روي عن علي وعمر.
وفي الھدایۃ:(1/213: مط:داراحیاء التراث العربی):
وإذا أسلمت المرأة وزوجها كافر عرض القاضي عليه الإسلام فإن أسلم فهي امرأته وإن أبى فرق بينهما وكان ذلك طلاقا عند أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله
کمافي تنویرالابصارمع الدر:(3/188:مط: دار الفكر-بيروت):
(وإذا) (أسلم أحد الزوجين المجوسيين أو امرأة الكتابي عرض الإسلام على الآخر، فإن أسلم) فيها (وإلا) بأن أبی أو سكت (فرق بينهما) (کتاب النکاح، باب نکاح الکافر).

فتویٰ نمبر: 5/16

جواب دہندہ: داراالافتاءجامعہ فرقانیہ

دارالافتاء: دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

پڑھا گیا: 4 بار