دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

رضاعی والدکی بیٹی سےنکاح جائزنہیں ہے

سوال

کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں کہ میرانام محمدسالک رفیق ہےمیرااپنے ماموں کےگھران کی بیٹی سےرشتہ طے ہواہے۔میرامسئلہ یہ ہےکہ میں ان کی بڑی بیٹی کےساتھ دودھ شریک ہوں،میں نے اپنی ممانی کاصرف ایک باردودھ پیاکسی مجبوری کی وجہ سےمیری والدہ گھرپرنہیں تھی ۔توکیامیں ماموں کی چھوٹی بیٹی سےنکاح کرسکتاہوں؟اوریہ پسندکارشتہ ہے۔
المستفتی:سالک کوہاٹی بازارراولپنڈی

جواب

الجواب حامداومصلیاومسلما
واضح رہےکہ شریعت مطہرہ میں جس عورت سےدودھ پیناثابت ہوجائےتو اس عورت کی ساری اولاد دودھ پینےوالے لڑکے کےلئےمحرم بن جاتی ہیں۔جیسےحدیث مبارک میں ہے "دودھ پینےکی وجہ سےوہ سارے رشتہ حرام ہوتے ہیں جونسب کی وجہ سےحرام ہوتے ہیں"لہذا صورت مسئولہ میں سائل کاماموں کی چھوٹی بیٹی سےنکاح کرناجائز نہیں ہے ؛کیونکہ وہ اس کی رضاعی بہن ہے۔

کمافي القرآن العظیم:(سورۃ النساء:رقم الایۃ:23):
حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ…
وفي صحیح البخاری:(3/170:مط:دارطوق النجاح):
عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم في بنت حمزة: "لا تحل لي، يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب، هي بنت أخي من الرضاعة"
(کتاب الشھادات،باب الشهادة على الأنساب، والرضاع).
وفی الھندیۃ:(1/343:مط:رشیدیہ):
يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا.(کتاب الرضاع).

فتویٰ نمبر: 16/2

دارالافتاء: دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

پڑھا گیا: 3 بار