دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

اہل تشیع کے ذبیحہ کاحکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ، اہل تشیع کا ذبیحہ حلال ہے کہ نہیں؟

جواب

الجواب حامداً و مصلياً و مسلماً
واضح رہے کہ اہل تشیع میں سے جو شخص صرف اس بات کا قائل ہو کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے افضل ہیں اور باقی صحابہ کرام میں سے کسی کو بھی کافر و مرتد نہ سمجھتا ہو تو اس شخص کا یہ عمل فسق اور ضلالت و گمراہی ہے، لہذا ایسے شخص کا ذبیحہ حلال رہے گا۔
لیکن جو شیعہ ایسے عقیدے کا قائل ہو جس کے کفر پر امت کا اتفاق ہو، جیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی الوہیت کا عقیدہ رکھنا، یا یہ کہنا کہ حضرت جبرائیل نے وحی میں غلطی کر کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی پہنچائی حالانکہ حق حضرت علی رضی اللہ عنہ کا تھا، یا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا انکار کرنا، یا صحابہ کرام کو کافر و مرتد کہنا، یا تحریفِ قرآن کا عقیدہ رکھنا، یا حضرت عائشہ صدیقہ بنتِ صدیق رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانا وغیرہ۔۔۔۔ یہ تمام ایسی باتیں ہیں کہ ان کا عقیدہ رکھنے والا یا ان کا قائل کوئی مسلمان نہیں ہو سکتا، لہذا ایسے شیعہ کا ذبیحہ حلال نہیں ہے۔
كما في الهندية: ج 5 ص 275 مط رشيديه.
وأما شرائط الذكاة... ومنها أن يكون مسلما أو كتابيا فلا تؤكل ذبيحة أهل الشرك والمرتد.
(كتاب الذبائح، الباب الاول في ركنه و شرائطه و حكمه و انواعه)
وفي رد المحتار على الدر المختار: ج 4 ص 134: مط رحمانيه.
وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الالوهية في على، أو أن جبريل غلط في الوحي. أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر ... بخلاف ما إذا كان يفضل عليا ويسب الصحابة فإنه مبتدع لا كافر.(كتاب النكاح، فصل المحرمات)
وفي الهندية: ج 2 ص 264: مط: رشيديه.
الرافضي إذا كان يسب الشيخين ويلعنهما والعياذ بالله، فهو كافر، ولو قذف عائشة رضى الله عنها بالزنا كفر بالله من أنكر إمامة أبي بكر الصديق رضى الله عنه فهو كافر ... وبقولهم إن جبريل غلط في الوحي إلى محمد صلى الله عليه وسلم دون على بن أبي طالب رضى الله عنه وهؤلاء القوم خارجون عن ملة الاسلام وأحكامهم أحكام المرتدين.
(كتاب السير الباب التاسع في أحكام المرتدين).
وفي السراجية بهامش القاضي خان: ج 3 ص 107: مط: حقانيه.
ولا يحل ذبيحة المجوسي والوثني والمرتد. (كتاب الصيد والذبائح، باب من تحل ذبيحته).

فتویٰ نمبر: 19/1

جواب دہندہ: داراالافتاءجامعہ فرقانیہ

دارالافتاء: دارالافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی

پڑھا گیا: 14 بار