رقم کی منتقلی پر بینک کی طرف سے پوائنٹس کا حصول

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ باہر ملکوں میں جو مسافر رہتے ہیں، جب وہ بینک کے ذریعے سے گھر کو پیسے بھیجتے ہیں، تو بینک کی طرف سے ان کو بیلنس کی منتقلی پر اضافی پوائنٹس دیے جاتے ہیں، اور یہ پوائنٹس یہ نقد کی صورت میں نہیں ہوتے، بلکہ جب آپ یوٹیلٹی سٹور سے کوئی چیز خریدتے ہیں، تو پیسوں کی بجائے آپ سے یہ پوائنٹس لیتے ہیں، اسی طرح جب سرکار میں آپ کی کوئی ضرورت ہو مثلا پاسپورٹ بنوانا یا کوئی نوکری ہو اور اس میں پیسوں کی ضرورت ہو، تو آپ سے یہ پوائنٹس لیتے ہیں،بہر حال یہ پوائنٹس فائدہ سے خالی نہیں ہیں،تو کیا  یہ پوائنٹس حکومت یا بینک سے لینا جائز ہے؟

الجواب بعون الملك الوهاب

واضح رہے کہ یہ جو مسئلہ آپ نے بتایا یہ ایک ایپلیکشن ہے، جس کا نام ” سوہنی دھرتی ریمینٹس پروگرام” ہے اسی طرح یہ لائلٹی اسکیم، ایوارڈز پروگرام،  وفاداری اسکیم سے مشہور ہے، حقیت میں یہ ایک مارکیٹینگ ٹول ہے، جو خریداروں کو کسی کاروبار سے دوبارہ خریداری کی حوصلہ افزائی اور ترغیب کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، اسی طرح حکومت کی طرف سے بھی یہ انعام دیا جاتا ہے،تاکہ لوگ ہنڈی کے ذریعےسے پیسے نہ بھیجے، ان پوائنٹس کا شرعی حکم یہ ہے کہ اگر اس طرح انعامات اور پوائنٹس حکومت یا دکانداروں اور تاجروں کی طرف سے ہوں، تو ان کا استعمال جائز ہے، کیونکہ یہ ان کی طرف سے احسان ہے،جو کسی بدلے میں نہیں ہوتا، اور اگر یہ پوائنٹس بینکوں کی طرف سے ہو، تو پھر یہ ناجائز ہےاور سود کے زمرے میں داخل ہے، کیونکہ بینک کے ذریعے پیسے بھیجنا قرض کے حکم میں ہے، اور قرض پر نفع لینا اور دینا سود ہے، چاہے بینک والے انعام کا نام دیدے یا پوائنٹس کا نام دیدے۔

لقوله تعالى: (سورة البقرة، رقم الآية: 278، 279):

﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ * فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ﴾

كما في مصنف ابن أبي شيبة (ج:11، ص: 476، مط: دار المنهاج):

عَنْ أُسَامَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسَاءِ.

(كتاب البيوع والأقضية، باب من قال إذا صرفت فلا تفارقه وبينك وبينه لبس).

وفي المبسوط للسرخسي (ج: 14، ص: 44، 45، مط: مكتبة رشيدية):

إن المنفعة إذا كانت مشروطة في الإقراض فهو قرض جر منفعة، وإن لم تكن مشروطة، فلا بأس به، حتى لو رد المستقرض أجود مما قبضه، فإن كان ذلك عن شرط لم يحل؛ لأنه منفعة القرض وإن لم يكن ذلك عن شرط، فلا بأس به؛ لأنه أحسن في قضاء الدين وهو مندوب إليه.      (كتاب الصرف، باب القرض والصرف فيه).

وفي بدائع الصنائع (ج: 10، ص: 597، 598، مط: مكتبة رشيدية):

(وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله – صلى الله عليه وسلم – أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب.

(كتاب القرض، فصل في الشروط).

وفي رد المحتار على الدر المختار (ج:7، ص: 413، مط: مكتبة رشيدية):

(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به.

(كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، فصل في القرض، مطلب: كل قرض جر نفعا حرام).

وفي الفتاوى الهندية، (ج: 9 ص: 149، مط: مكتبة رشيدية):

قال الفقيه أبو الليث – رحمه الله تعالى – اختلف الناس في أخذ الجائزة من السلطان قال بعضهم يجوز ما لم يعلم أنه يعطيه من حرام قال محمد – رحمه الله تعالى – وبه نأخذ ما لم نعرف شيئا حراما بعينه، وهو قول أبي حنيفة – رحمه الله تعالى – وأصحابه.

(كتاب الكراهية، الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات).

وفي الموسوعة الفقهية (ج: 15، ص: 77، 78، مط: مكتبة رشيدية):

الأصل إباحة الجائزة على عمل مشروع سواء أكان دينيا أو دنيويا لأنه من باب الحث على فعل الخير والإعانة عليه بالمال وهو من قبيل الهبة.

وأما جائزة السلطان الذي لم يعرف بالجور فقال الفقيه أبو الليث: إن الناس اختلفوا في أخذها، فقال بعضهم: يجوز ما لم يعلم أنه يعطيه من حرام، قال محمد بن الحسن: وبه نأخذ ما لم نعرف شيئا حراما بعينه، وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى وأصحابه.                                                          (الجائزة، الحكم التكليفي).

وفي بحوث قضايا فقهية معاصرة (ج:2، ص: 155، 156، مط: مكتبة معارف القرآن):

وإن مثل هذا الجوائز التي تمنح على أساس عمل عمله أحد، لا تخرج عن كونها تبرعا وهبة، لأنها ليس لها مقابل، وإن العمل الذي عمله الموهوب له لم يكن على أساس الإجارة، أو الجعالة، حتى يقال: إن الجائزة أجرة لعمله، وإنما كان على أساس الهبة للتشجيع.

وبما أن حقيقة الجائزة أنها هبة بدون مقابل، فإنها ليست من عقود المعاوضة، وإنما هي من قبيل التبرعات، فمن شروط جوازها أن تكون تبرعا من المجيز بدون أن يلتزم المجاز بدفع عوض مالي مقابل الجائزة.

(البحث التاسع عشر أحكام الجوائز، ثانيا: حكم الجائزة).

الجواب صحیح  وسیع اللہ خان عفی عنہ 18/صفر المظفر/1445ھ05/ستمبر /2023ء 
الجواب صحیح  محمد شعیب عفی عنہ 18/صفر المظفر/1445ھ05/ستمبر /2023ء
الجواب صحیح  سید نادر شاہ عفی عنہ 8/صفر المظفر/1445ھ05/ستمبر /2023ء
فقط واللہ اعلم بالصوابکتبہ محمد اکرام عفا اللہ عنہ ووالدیہشریک تخصص فی الافتاء جامعہ فرقانیہ مدنیہ راولپنڈی18/صفر المظفر/1445ھ05/ستمبر/2023ء

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top